مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 300
انہیں کی مشیخت آزمانے کے لیے دہلی تک پہنچا۔اور اپنے وطن کوچھوڑ کر اور تکالیف و مصائب غربت اُٹھا کر اس شہر میں آ ٹھہرا۔کوئی منصف مجھے سمجھا دے کہ میرے مقابلہ پر شیخ الکل صاحب نے کیا کیا۔ہاں ایک یکطرفہ جلسہ مقرر کر کے یہ چال تو ضرور چلے کہ ایک طرف ناگہانی طور پر مجھے بلایا اور دوسری طر ف دہلی کے سفہاء اور اوباشوں کو بے اصل بہتانوں سے ورغلا کر اسی دن میرے گھر کے گردا گرد جمع کر دیا۔اور صدہا بدسرشت لوگوں کے دلوں میں جوش ڈال دیا۔جس سے وہ بڑی دلیری سے کوہستانی غازیوں کی طرح مارنے کے لیے مستعد ہو گئے اور مجھے باہر قدم رکھنے کی بھی گنجائش باقی نہ رہنے دی بلکہ زنانہ مکان کے کواڑ توڑنے لگے اور بعض وحشی خونخوار زنانہ مکان میں گھس آئے اور پھر اس مجبوری کی وجہ سے جو میں اس پہلے جلسہ یکطرفہ میں حاضر نہ ہو سکا تو عام طور پر شایع کر دیا کہ ہم نے فتح پائی۔ناظرین خود سوچ لیں کہ یہ کیسا کام تھا اور کن لوگوں سے ایسے کام ہوا کرتے ہیں۔پھر دوسری چال یہ چلے کہ جب کہ انہیں خوب معلوم ہو گیا کہ وہ حضرت مسیح ابن مریم کی حیات جسمانی کا ثبوت ہرگز دے نہیں سکتے۔اور اگر اس بحث کے لیے مقابلہ پر آتے ہیں تو سخت رسوائی ہوتی ہے تو انہوں نے بعض زبان دراز شاگردوں کو جن میں صرف نقّالوں کی طرح تمسخر کا مادہ ہے۔بیہودہ اشتہارات کے جاری کرنے اور وقت کے ٹالنے کے لیے کھڑا کر دیا۔گویا حضر ت نے اس تدبیر سے ان تلامیذ کو اپنا فدیہ دے کر اپنی جان چھڑانے کا ارادہ کیا، لیکن منصفین سوچ سکتے ہیں کہ اُن دھوکہ دہ اشتہاروں میں مطلب کی بات کون سی لکھی گئی یا اس بات کا کیا جواب دیا گیا کہ کیوں شیخ الکل صاحب اتنا بڑا موٹا نام رکھوا کر اس ضروری بحث سے گریز کرتے ہیں اور کون سی ایسی آفت اُن پر نازل ہے جو ان کو بحث کرنے سے روکتی ہے۔شیخ الکل صاحب کی ان کارروائیوں سے ہر ایک عقلمند ان کی دیانت و امانت و حق پرستی و دینداری و ہمدردی اسلام کا اندازہ کر سکتا ہے۔اگر وہ مثلاً اس بیان کے ادا کرنے کے لیے عدالت میں بُلائے جاتے اور حُکماً پوچھا جاتاکہ سچ کہو تمہارے پاس حضرت مسیح ابن مریم کی جسمانی حیات اور جسمانی صعود و نزول پر کیا کیا قطعی دلائل قرآن اور حدیث کی رو سے موجود ہیں جو عقیدہ قرار دینے کے لیے کافی ہوں تو کیا شیخ الکل صاحب عدالت میں حاضر نہ ہوتے اور اپنا بیان نہ