مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 281
طالبوں کو محض نصیحتاً کہا جاتا ہے کہ میری کتاب ازالۂ اوہام کو خود غور سے دیکھیں اور ان مولوی صاحبوں کی باتوں پر نہ جائیں۔ساٹھ جزو کی کتاب ہے۔اور یقینا سمجھو کہ معارف اور دلائل یقینیہ کا اس میں ایک دریا بہتا ہے۔صرف (تین روپے)قیمت ہے۔اور واضح ہو کہ یہ درخواست مولوی سیّد نذیر حسین صاحب کی کہ مسیح موعود ہونے کا ثبوت دینا چاہیے اور اس میں بحث ہونی چاہیے، بالکل تحکّم اور خلاف طریق انصاف اور حق جوئی ہے۔کیونکہ ظاہر ہے کہ مسیح موعود ہونے کا اثبات آسمانی نشانوں کے ذریعہ سے ہو گا۔اور آسمانی نشانوں کو بجز اس کے کون مان سکتا ہے کہ اوّل اس شخص کی نسبت جو کوئی آسمانی نشان دکھاوے۔یہ اطمینان ہو جاوے کہ وہ خلاف قَالَ اللّٰہُ قَالَ الرَّسُوْلُ کوئی اعتقاد نہیں رکھتا ورنہ ایسے شخص کی نسبت جو مخالف قرآن اور حدیث کوئی اعتقاد رکھتا ہے ولایت کا گمان ہرگز نہیں کر سکتے بلکہ وہ دائرئہ اسلام سے خارج سمجھا جاتا ہے۔اور اگر وہ کوئی نشان بھی دکھاوے تو وہ نشان کرامت متصور نہیں ہوتا بلکہ اس کو استدراج کہا جاتا ہے۔چنانچہ مولوی محمد حسین صاحب بھی اپنے لمبے اشتہار میں جو لدھیانہ میں چھپوایا تھا اس بات کو تسلیم کر چکے ہیں اس صورت میں صاف ظاہر ہے کہ سب سے پہلے بحث کے لایق وہی امر ہے جس سے یہ ثابت ہو جائے کہ قرآن اور حدیث اس دعویٰ کے مخالف ہیںاور وہ امر مسیح ابن مریم کی وفات کا مسئلہ ہے۔کیونکہ ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ اگر حاشیہ کی عبارت۔بالآخر تمام عذرات نامعقول کے توڑنے اور اتمام حجت کی غرض سے یہ بھی ہم بطریق تنزل لکھتے ہیں کہ اگر مولوی سیّد نذیر حسین صاحب کسی افسرانگریز کے جلسۂ بحث میں مامور کرانے سے ناکام رہیں تو اس صورت میں ایک اشتہار شائع کر دیں۔جس میں حلفاً اقرار ہو کہ ہم خود قائمی امن کے ذمہ وار ہیں۔کوئی شخص حاضرین جلسہ میں سے کوئی کلمہ خلاف تہذیب اور شرارت کا منہ پر نہیں لائے گا اور نہ آپ توہین اور استخفاف اور استکبار کے کلمات منہ پر لائیں گے۔بلکہ سراسر عاجزی اور انکسار اور تواضع سے تحریری بحث کریں گے اور اگر کوئی عوام و خواص میں سے کوئی خلاف تہذیب و ادب کوئی کلمہ منہ پر لاوے تو فی الفور اس کو مجلس میں سے نکال دیں گے۔اس صورت میں یہ عاجز مولوی صاحب کی مسجد میں بحث کے لیے حاضر ہو سکتا ہے۔مگر دوسری تمام شرطیں اشتہار ۲؍ اکتوبر کی قائم رہیں گی۔مطبوعہ مطبع اخبار خیر خواہ ہند دھلی