مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 282
درحقیقت قرآن کریم اور احادیث صحیحہ کی رو سے حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات ہی ثابت ہوتی ہے تو اس صورت میں پھر اگر یہ عاجز مسیح موعود ہونے کے دعوے پر ایک نشان کیا بلکہ لاکھ نشان بھی دکھاوے تب بھی وہ نشان قبول کرنے کے لائق نہیں ہوں گے کیونکہ قرآن ان کے مخالف شہادت دیتا ہے، غایت کا ر وہ استدراج سمجھے جائیں گے۔لہٰذا سب سے اوّل بحث جو ضروری ہے مسیح ابن مریم کی وفات یا حیات کی بحث ہے جس کا طے ہو جانا ضروری ہے کیونکہ مخالف قرآن و حدیث کے نشانوں کا ماننا مومن کا کام نہیں۔ہاں ان نادانوں کا کام ہے جو قرآن اور حدیث سے کچھ غرض نہیں رکھتے۔فَاتَّقُوا اللّٰہَ اَیُّھَا الْعُلَمَآء!! وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی۔المشــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــتھر مرزا غلام احمد از دہلی بازار بلّیماراں۔کوٹھی نواب لوہارو ۶؍ اکتوبر ۱۸۹۱ء (تبلیغ رسالت جلد ۲ صفحہ ۲۶ تا ۲۹)