مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 280
حضرت مسیح علیہ السّلام وفات پاچکے ہیں۔مگر جن لوگوں کو عاقبت کا اندیشہ نہیں۔خدا تعالیٰ کا کچھ خوف نہیں۔وہ تعصب کو مضبوط پکڑ کر قرآن اور احادیث کوپسِ پُشت ڈالتے ہیں۔خدا تعالیٰ اس اُمّت پر رحم کرے۔لوگوں نے کیسے قرآن اور حدیث کو چھوڑ دیا ہے۔اور اس عاجز نے اشتہار ۲؍ اکتوبر ۱۸۹۱ء میں حضرت مولوی ابو محمد عبد الحق صاحب کا نام بھی درج کیا تھا۔مگر عند الملاقات اور باہم گفتگو کرنے سے معلوم ہوا کہ مولوی صاحب موصوف ایک گوشہ گزین آدمی ہیں اور ایسے جلسوں سے جن میں عوام کے نفاق۔۔۔شقاق کا اندیشہ ہے۔طبعاً کارہ ہیں۔اور اپنے کام تفسیر قرآن میں مشغول ہیں اور شرائط اشتہار کے پورے کرنے سے مجبور ہیں کیونکہ گوشہ گزین ہیں۔حکّام سے میل ملاقات نہیں رکھتے۔اور بباعث درویشانہ صفت کے ایسی ملاقاتوں سے کراہیت بھی رکھتے ہیں، لیکن مولوی نذیر حسین صاحب اوران کے شاگرد بٹالوی صاحب جو اب دہلی میں موجود ہیں ان کاموں میں اوّل درجہ کا جوش رکھتے ہیں۔لہٰذا اشتہار دیا جاتا ہے کہ اگر ہر دو مولوی صاحب موصوف حضرت مسیح ابن مریم کو زندہ سمجھنے میں حق پر ہیں اور قرآن کریم اور احادیث صحیحہ سے اس کی زندگی ثابت کر سکتے ہیں تو میرے ساتھ بپابندی شرائط مندرجہ اشتہار ۲؍ اکتوبر ۱۸۹۱ء بالاتفاق بحث کر لیں۔اور اگر انہوں نے بقبول شرائط اشتہار ۲؍اکتوبر ۱۸۹۱ ء بحث کے لیے مستعدی ظاہر نہ کی اور پوچ اور بے اصل بہانوں سے ٹال دیا تو سمجھا جائے گا کہ انہوں نے مسیح ابن مریم کی وفات کو قبول کر لیا۔بحث میں امر تنقیح طلب یہ ہو گا کہ آیا قرآن کریم اور احادیث صحیحہ نبویہ سے ثابت ہوتا ہے کہ وہی مسیح ابن مریم جس کو انجیل ملی تھی اب تک آسمان پر زندہ ہے اور آخری زمانے میں آئے گا۔یا یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ درحقیقت فوت ہو چکا ہے اور اس کے نام پر کوئی دوسرا اسی اُمّت میں سے آئے گا۔اگر یہ ثابت ہو جائے گا کہ وہی مسیح ابن مریم زندہ بجسدہ العنصری آسمان پر موجود ہے تو یہ عاجز دوسرے دعوے سے خود دست بردار ہو جائے گا، ورنہ بحالت ثانی بعد اس اقرار کے لکھانے کے کہ درحقیقت اسی اُمّت میں سے مسیح ابن مریم کے نام پر کوئی اور آنے والا ہے یہ عاجز اپنے مسیح موعود ہونے کا ثبوت دے گا۔اور اگر اس اشتہار کا جواب ایک ہفتہ تک مولوی صاحب کی طرف سے شائع نہ ہوا تو سمجھا جائے گا کہ انہوں نے گریز کی اور حق کے