مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 277
اور ان سب باتوں میں اپنے بھائی مسلمانوں کے ساتھ مجھے کچھ اختلاف نہیں۔ہاں اصل عقائد مذکورہ بالا کو مسلّم رکھ کر جو اور اور باتیں از قبیل اسرار و حقایق و معارف و علوم حکمیہ و دقایق بطون قرآن کریم ہیں وہ مجھ پر جیسے جیسے الہام کے ذریعہ سے کھلتے ہیں ان کو بیان کر دیتا ہوں جن کا اصل عقائد سے کچھ بھی تعارض نہیں۔ہاں حیات مسیح ابن مریم کی نسبت مجھے انکار ہے۔سو یہ انکار نہ صرف الہام الٰہی پر مبنی ہے بلکہ قرآن کریم اور احادیثِ صحیحہ نبویّہ میرے اس الہام کے شاہد کامل ہیں۔اگر حضرت سیّد مولوی محمدنذیر حسین صاحب یا جناب مولوی ابومحمد عبد الحق صاحب مسئلہ وفات مسیح میں مجھے مخطی خیال کرتے ہیں یا ملحد اور ماوّل تصور فرماتے ہیں اور میرے قول کو خلاف قال اللہ قال الرسول گمان کرتے ہیں تو حضرات موصوفہ پر فرض ہے کہ عامہ خلایق کو فتنہ سے بچانے کے لیے اس مسئلہ میں اسی شہر دہلی میں میرے ساتھ بحث کر لیں۔بحث میں صرف تیں شرطیں ہوں گی۔(۱) اوّل یہ کہ امن قائم رہنے کے لیے وہ خود سرکاری انتظام کرا دیں۔یعنی ایک افسر انگریز مجلس بحث میں موجود ہو۔کیونکہ میں مسافر ہوں۔اور اپنی عزیز قوم کا مورد عتاب اور ہر طرف سے اپنے بھائیوں مسلمانوں کی زبان سے سبّ اور لعن و طعن اپنی نسبت سنتا ہوں۔اور جو شخص مجھ پر لعنت بھیجتا ہے اور مجھے دجّال کہتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ آج مَیں نے بڑے ثواب کا کام کیا ہے۔لہٰذا میں بجز سرکاری افسر کے درمیان ہونے کے اپنے بھائیوں کی اخلاقی حالت پر مطمئن نہیں ہوں۔کیونکہ کئی مرتبہ تجربہ کر چکا ہوں۔وَ لَا یُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَّاحِدٍ مَرَّتَیْنِ۔(۲) دوسرے یہ کہ فریقین کی بحث تحریری ہو ہر ایک فریق مجلس بحث میں اپنے ہاتھ سے سوال لکھ کر اور اس پر اپنے دستخط کر کے پیش کرے۔اور ایسا ہی فریق ثانی لکھ کر جواب دیوے۔کیونکہ زبانی بیانات محفوظ نہیں رہ سکتے اور نقل مجلس کرنے والے اپنی اغراض کی حمایت میں اس قدر حاشیے چڑھا دیتے ہیں کہ تحریف کلام میں یہودیوں کے بھی کان کاٹتے ہیں۔اس صورت میں تمام بحث ضایع جاتی ہے اور جو لوگ مجلس بحث میں حاضر نہیں ہو سکے ان کو رائے لگانے کے لیے کوئی صحیح بات ہاتھ نہیں آتی۔ماسوا اس کے صرف زبانی بیان میں اکثر مخاصم بے اصل اور کچی باتیں منہ پر لاتے ہیں لیکن تحریر کے وقت وہ ایسی باتوں کے لکھنے سے ڈرتے ہیں تا وہ اپنی خلاف واقعہ تحریر سے پکڑے نہ جائیں اور