مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 278
ان کی علمیت پر کوئی دھبہ نہ لگے۔(۳) تیسری شرط یہ کہ بحث وفات حیات مسیح میں ہو۔اور کوئی شخص قرآن کریم اور کتب حدیث سے باہر نہ جائے۔مگر صحیحین کو تمام کتب حدیث پر مقدم رکھا جائے اور بخاری کو مسلم پر کیونکہ وہ اصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے۔اور مَیں وعدہ کرتا ہوں کہ اگر مسیح ابن مریم کی حیات طریقۂ مذکورہ بالا سے جو واقعات صحیحہ کے معلوم کرنے کے لیے خیر الطرق ہے، ثابت ہو جائے تو مَیں اپنے الہام سے دست بردار ہو جائوں گا، کیونکہ مَیں جانتا ہوں کہ قرآن کریم سے مخالف ہو کر کوئی الہام صحیح نہیں ٹھہر سکتا۔پس کچھ ضرور نہیں کہ میرے مسیح موعود ہونے میں الگ بحث کی جائے بلکہ مَیں حلفاً اقرار کرتا ہوں کہ اگر میں ایسی بحث وفات عیسیٰ میں غلطی پر نکلا تو دوسرا دعویٰ خود چھوڑ دوں گا۔اور ان تمام نشانوں کی پروا نہیں کروں گا جو میرے اس دعوے کے مصدق ہیں کیونکہ قرآن کریم سے کوئی حجت بڑھ کر نہیں۔وَ مَا عِنْدَنَا شَیْ ئٌ اِلَّا کِتَابَ اللّٰہِ وَ اِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَيْ ئٍ فَرُدُّوْہُ اِلَی اللّٰہِ وَ الرَّسُوْلِ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍ بَعْدَ اللّٰہِ وَ اٰیَاتِہٖ یُؤْمِنُوْنَ۔مَیں ایک ہفتہ تک اس اشتہار کے شایع ہونے کے بعد حضرات موصوفہ کے جواب باصواب کا انتظار کروں گا۔اور اگر وہ شرائط مذکورہ بالا کو منظور کر کے مجھے طلب کریں تو جس جگہ چاہیں میں حاضر ہو جائوں گا۔وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی۔اور کتاب ازالہ اوہام کے خریداروں پر واضح ہو کہ مَیں بلّی مَاروں کے بازار میں کوٹھی لوہارو والی میں فروکش ہوں اور ازالہ اوہام کی جلدیں میرے پاس موجود ہیں۔جو صاحب تین روپیہ قیمت داخل کریں۔وہ خرید سکتے ہیں۔وَالسَّلَام المشـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــتھر خاکسار غلام احمد قادیانی حال وارد د ھلی بازار بلیماراں کوٹھی نواب لوہارو۔۲؍ اکتوبر ۱۸۹۱ء (تبلیغ رسالت جلد ۲ صفحہ ۲۰ تا ۲۶)