مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 242
وقت شرمندہ ہونا پڑتا ہے اور ہمیشہ اپنے ان مولویوں سے بحث کے وقت یہی خطرہ اور دھڑکا رہتا ہے کہ بات کرتے کرتے کہیں لاٹھی بھی نہ چلا دیں۔مگر میرے اس قول سے وہ شریف لوگ مستثنیٰ ہیں جن کے سینوں میں خدا تعالیٰ نے صفائی بخشی ہے، لیکن اکثر تو ایسے ہی ہیں جن پر صفات سبعیہ غالب ہیں۔مَیں اس شہر میں قریباً ہر روز دیکھتا ہوں کہ جب کوئی مسلمان مخالف ملنے کے لیے آتا ہے تواس کے چہرہ پر ایک درندگی کے آثار ظاہر ہوتے ہیں۔گویا خون ٹپکتا ہے۔ہر دم غصّہ سے نیلا پیلا ہوتا جاتا ہے۔سخت اشتعال کی وجہ سے زبان میں لکنت بھی ہوتی ہے۔لیکن جب کوئی عیسائی ملتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا غضبی قوت بالکل اس سے مسلوب ہے۔نرمی سے کلام کرتا ہے اور بُردباری سے بولتا ہے۔لہٰذا مجھے ان لوگوں پر نہایت ہی رحم آیا… ہمارا ان لوگوں سے جھگڑا ہی کیا ہے، فقط ایک مسیح کے زندہ نہ ہونے کا۔ایک ذرہ سی بات ہے جس کے طے ہونے سے یہ لوگ بھائیوں کی طرح ہم سے آ ملیں گے۔اور یوروپ اور ایشیا میں اسلام ہی اسلام ہو جائے گا۔لہٰذا میں نہایت ادب اور عاجزی سے پادری صاحبوں کی خدمت میں یہ ہدیۂ اشتہار روانہ کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے میرے پر ثابت کر دیا ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم ہمیشہ کے لیے فوت ہو چکے ہیں۔اور اس قدر ثبوت میرے پاس ہیں کہ کسی منصف کو بجز ماننے کے چارہ نہیں۔سو مَیں اُمید کرتا ہوں کہ پادری صاحبان اس بارہ میں مجھ سے گفتگو کر کے میرے نافہم بھائیوں کو اس سے فائدہ پہنچاویں۔مَیں یقین رکھتا ہوں کہ پادری صاحبان کی گفتگو اظہار حق کے لیے نہایت مفید ہو گی۔وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی المشــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــتھر میرزا غلام احمد قادیانی۔لودیانہ ۲۰؍ مئی ۱۸۹۱ء دبدبہ اقبالِ ربی۔ّ پریس لودیانہ (تبلیغ رسالت جلد ۲ صفحہ ۱۲ تا ۱۴)