مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 241
مُردہ کو خدا بنا نہیں سکتا۔اور تمام عیسائی بالاتفاق اس بات کے قائل ہیں کہ اگر کوئی شخص حضرت مسیح ابن مریم کا مر کر پھر مُردہ رہنا ثابت کر دے تو ہم یک لخت عیسائی مذہب کو چھوڑ دیں گے، لیکن افسوس کہ ہمارے گزشتہ علماء نے عیسائیوں کے مقابل پر کبھی اس طرف توجہ نہ کی حالانکہ اس ایک ہی بحث میں تمام بحثوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔دنیا میں ایسا نادان کون ہے کہ کسی مُردہ کا نام اِلٰہُ الْعَالَمِیْنَ رکھے۔اور جو مر چکا ہے اس میں حَیٌّ لَا یَمُوْت کے صفات قائم کرے۔عیسائی مذہب کا ستون جس کی پناہ میں انگلستان اور جرمن اور فرانس اور امریکہ اور روس وغیرہ کے عیسائی… ۱؎ رَبُّنَا الْمَسِیْحُ کہہ رہے ہیں۔صرف ایک ہی بات ہے اور وہ یہ ہے کہ بدقسمتی سے مسلمانوں اور عیسائیوں نے برخلاف کتاب الٰہی یہ خیال کر لیا ہے کہ مسیح آسمان پر مدت دراز سے بقید حیات چلا آتا ہے۔اور کچھ شک نہیں کہ اگر یہ ستون ٹوٹ جائے تو اس خیال باطل کے دُور ہو جانے سے صفحۂ دنیا یک لخت مخلوق پرستی سے پاک ہو جائے۔اور تمام یوروپ اور ایشیا اور امریکہ ایک ہی مذہب توحید میں داخل ہو کر بھائیوں کی طرح زندگی بسر کریں، لیکن میں نے حال کے مسلمان مولویوں کو خوب آزما لیا۔وہ اس ستون کے ٹوٹ جانے سے سخت ناراض ہیں اور درپردہ مخلوق پرستی کے مؤیّد ہیں۔مَیں نے ان کو خدا تعالیٰ کا حکم سُنا دیا لیکن انہوں نے قبول نہیں کیا۔اب میں اس دعوت کو لے کر اس ہدیہ طیّبہ کے پیش کر نے کی غرض سے عیسائی صاحبوں کی طرف رُخ کرتا ہوں۔اور مَیں یقین رکھتا ہوں کہ جس سختی سے مسلمانوں نے میرے ساتھ برتائو کیا وہ نہیں کریں گے۔کیونکہ ان میں وہ تہذیب ہے جو عدل گستر گورنمنٹ برطانیہ نے اپنے قوانین کے ذریعہ سے مہذّب لوگوں کو سکھلائی ہے۔اور ان میں وہ ادب ہے جو ایک باوقار سوسائٹی نے نمایاں آثار کے ساتھ دلوں میں قائم کیا ہے۔سو مجھے اللہجَلّشَانُـہٗ کا شکر کرنا چاہیے اور بعد اس کے اس مصدرِ فیض گورنمنٹ کا بھی جس کی ظلِّ حمایت میں ہم خوشی اور آزادی کے ساتھ گورنمنٹ کی ایسی رعیّت کے ساتھ بھی مذہبی بحث کر سکتے ہیں اور خود پادری صاحبان ُخلق اور بُردباری اور رفق اور نرمی میں ہمارے ان مولوی صاحبوں سے ایسی سبقت لے گئے ہیں کہ ہمیں موازنہ کرتے ۱؎ یہاں سے اشتہار پھٹا ہوا ہے۔(مرتب)