مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 233
ہم مفتری ٹھہرے۔تو آئو باہم مباہلہ کریں تا اس شخص پر جو کاذب اور مفتری ہے خدا تعالیٰ کا عذاب نازل ہو۔اور فرمایا کہ مباہلہ کے لیے ایک نہیں بلکہ دونوں طرف سے جماعتیں آنی چاہئیں۔تب مباہلہ ہو گا۔جیسا کہ فرماتا ہے۔ ۔ ۔۱؎ ۲؎ یعنی مسیح کا بندہ ہونا بالکل سچ اور شک سے منزّہ ہے۔اور اگر اب بھی عیسائی لوگ مسیح ابن مریم کی الوہیت پر تجھ سے جھگڑا کریں اور خدا تعالیٰ کے اس بیان کو جو مسیح درحقیقت آدم کی طرح ایک بندہ ہے گو بغیر باپ کے پیدا ہوا دروغ سمجھیں اور انسا ن کا افترا خیال کریں۔تو ان کو کہہ دے کہ اپنے عزیزوں کی جماعت کے ساتھ مباہلہ کے لیے آویں۔اور ادھر ہم بھی اپنی جماعت کے ساتھ مباہلہ کے لیے آویں گے۔پھر جھوٹوں پر لعنت کریں گے۔اب اس تمام بیان سے بوضاحت کھل گیا کہ مسنون طریق مباہلہ کا یہ ہے کہ جو شخص مباہلہ کی درخواست کرے اس کے دعویٰ کی بنا ایسے یقین پر ہو جس یقین کی وجہ سے وہ اپنے فریق مقابل کو قطعی طور پر مفتری اور کاذب خیال کرے اور اس یقین کا اس کی طرف سے بصراحت اظہار چاہیے کہ میں اس شخص کو مفتری جانتا ہوں۔نہ صرف ظن اور شک کے طور سے بلکہ کامل یقین سے۔جیسا کہ خدا تعالیٰ نے آیت موصوفہ بالا میں ظاہر فرمایا ہے۔پھر ان آیات سے یہ بھی ظا ہر ہے کہ پہلے خدا تعالیٰ نے دلائل بیّنہ سے بخوبی عیسائیوں کو سمجھا دیا کہ عیسیٰ بن مریم میں کوئی خدائی کا نشان نہیں۔اور جب باز نہ آئے تو پھر مباہلہ کے لیے درخواست کی۔اور نیز آیات موصوفہ بالا سے یہ بھی ظاہر ہے کہ مسنون طریقہ مباہلہ کا یہی ہے کہ دونوں طرف سے جماعتیں حاضر ہوں۔اگر جماعت سے کسی کو بے نیازی حاصل ہوتی تو اس کے اوّل مستحق ہمارے ۱؎ اس آیت میں لفظ صاف ہمارے مدعا اور بیان کا شاہد ناطق ہے اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرما کر ظاہر کرتا ہے کہ مباہلہ اسی صورت میں جائز ہے کہ جب فریقین ایک دوسرے کو عمداً دروغ باز یقین کرتے ہوں نہ یہ کہ صرف مُخطی خیال کرتے ہوں۔۲؎ اٰل عمران: ۶۱، ۶۲