مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 232
بناء پر نہیں بلکہ اس افترا کا جواب ہے جو انہوں نے عمدًا کیا اور یہ کہا کہ میرا ایک دوست جس کی بات پر مجھے بکلی اعتماد ہے۔دو مہینے تک قادیان میں میرزا غلام احمد کے مکان پر رہ کر بچشم خود دیکھ آیا ہے کہ ان کے پاس آلاتِ نجوم ہیں اور انہیں کے ذریعہ وہ آئندہ کی خبریں بتلاتے ہیں اور ان کا نام الہام رکھ لیتے ہیں۔اب دیکھنا چاہیے کہ اس صورت کو جزئی اختلاف سے کیا تعلق ہے بلکہ یہ تو اس قسم کی بات ہے جیسے کوئی کسی کی نسبت یہ کہے کہ مَیں نے اس کو بچشم خود زنا کرتے دیکھا یا بچشم خود شراب پیتے دیکھا۔اگر میں اس بے بنیاد افترا کے لیے مباہلہ کی درخواست نہ کرتا تو اور کیا کرتا؟ بالآخر یہ بھی یاد رہے کہ ہمیں مباہلہ مسنونہ سے انکار نہیں۔اگر انکار ہے تو ایسے مباہلہ سے جس کا قرآن اور حدیث سے نشان نہیں ملتا۔اگر اس طور پر مباہلہ کرنا چاہو کہ جس طور سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے درخواست کی تھی تو ہم بدل وجان مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔یقینا تمہیں معلوم ہو گا کہ وہ مباہلہ جس کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نصاریٰ سے درخواست کی تھی۔وہ یہ تھا کہ آنجناب کو وحی الٰہی سے یقینی طور پر معلوم ہوا کہ عیسائی لوگ اس بات میں جھوٹے ہیں جو انہوں نے مسیح ابن مریم کو خدا کا بیٹا بلکہ خدا بنا رکھا ہے۔سچ صرف اس قدر ہے کہ مسیح ؑ نبی تھا اور خدا تعالیٰ کا بندہ تھا اور اس سے زیادہ جو کچھ ہے وہ عیسائیوں کا افترا ہے۔اِدھر عیسائی بھی کلام اللہ کے اس بیان کو خدا تعالیٰ کا کلام نہیں سمجھتے تھے بلکہ خیال کرتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نعوذ باللہ اپنا افترا ہے۔چنانچہ اوّل ان کے اسکات و الزام کے لیے ہر ایک قسم کے دلائل و نشان قرآن شریف نے پیش کئے، مگر انہوں نے اپنے تعصب کی وجہ سے ان دلائل کو قبول نہ کیا۔آخر جب انہوں نے کسی دلیل کو قبول نہ کیااور کسی نشان پر ایمان نہ لائے تو اتمام حجت کی غرض سے مباہلہ کے لیے ان سے درخواست کی گئی اور یہ درخواست صرف اس بنا پر تھی کہ ہم پر خدا تعالیٰ نے یہ بات یقینی طور پر کھول دی ہے کہ تم اس اعتقاد میں کہ مسیح ابن مریم سچ مچ خد اکا بیٹا اور خدا ہے، مفتری ہو۔خدا تعالیٰ نے انجیل میں ہرگز ایسی تعلیم نہیں دی کہ اس کا کوئی دوسرا شریک بھی ہے اور درحقیقت اس کا کوئی بیٹا بھی ہے جو بیٹا ہونے کی وجہ سے خدا بھی ہے۔اگر تمہیں یقین ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہی تعلیم دی ہے تو بقول تمہارے