مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 234
نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔یہ کیا انصاف کی بات ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مباہلہ کے لیے جماعت کے محتاج ٹھہرائے جائیں اور میاں عبد الحق اکیلے کافی ہوں؟ عجب بات ہے کہ مباہلہ کے لیے تو دوڑتے ہیں اور پہلے ہی قدم میں فرمودئہ خدا اور رسول کو چھوڑتے ہیں۔اور اگر کوئی جماعت ساتھ ہے تو بذریعہ اشتہار اس کا نام لینا چاہیے۔اگر اصل حقیقت پر غور کیا جاوے تو مباہلہ کی درخواست کرنا ہمارا حق تھا۔اور وہ بھی اس وقت جب ہم اپنے دعوے کو دلائل و بیّنات مفصلہ و مسکتہ سے مؤید و مستند کر چکتے مگر اب بھی تنزلاً ترحماً لِلّٰہ مباہلہ کے لیے تیار ہیں۔مگر انہیں شرائط کے ساتھ جو مذکور ہو چکیں۔اب ناظرین یاد رکھیں کہ جب تک یہ تمام شرائط نہ پائے جائیں تو عند الشرع مباہلہ ہرگز درست نہیں۔مباہلہ میں دونوں فریق ایسے چاہئیں کہ درحقیقت یقینی طور پر ایک دوسرے کو مفتری سمجھیں اور وہ حسنِ ظن جو مومن پر ہوتا ہے ایک ذرّہ ان کے درمیان موجود نہ ہو ورنہ اجتہادی اختلافات میں ہرگز مباہلہ جائز نہیں اور اگر مباہلہ ہو گا تو ہرگز کو ئی ثمرہ مترتب نہیں ہو گا اور ناحق غیر مذہب والے ہنسی ٹھٹھا کریں گے۔خدا تعالیٰ ایسا نہیں ہے کہ مسلمانوں کو ان کے اجتہادی اختلافات کی وجہ سے تہ تیغ کر دیوے اور دشمنوں کو ہنساوے۔پس میاں عبد الحق اور ان کے پوشیدہ انصار کو مناسب ہے کہ اگر مباہلہ کا شوق ہے تو سنّت نبوی اور کلام ربِّ عزیز کا اقتداء کریں۔قرآن کریم کے منشاء کے خلاف اگر مباہلہ ہو تو وہ ایمانی مباہلہ ہرگز نہیں۔افغانی مباہلہ ہو تو ہو۔اب میں ایک دفعہ پھر ان تمام مولوی صاحبان کو جنہیں پہلے اشتہار میںمخاطب کیا گیا تھا۔اِتْمَامًا لِلْحُجَّۃ دوبارہ یاد دلاتا ہوں کہ اگر میرے دعاوی اور بیانات کی نسبت انہیں تردّد ہو تو حسبِ شرائط اشتہار سابقہ مجلس مباحثہ کی منعقد کر کے ان اوہام کا ازالہ کرا لیں۔ورنہ یا د رکھیں کہ یہ امر کمال معصیت کا موجب ہے کہ خود اپنے اوہام کے ازالہ کی فکر نہ کریں اور دوسروں کو ورطۂ اوہام میں ڈالیں۔وَالسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْھُدٰی۔المشـــــــــــــــــــــــــــــــــتھر ِمیرزا غلام احمد قادیانی ۱۲؍ اپریل ۱۸۹۱ء (تبلیغ رسالت جلد ۲ صفحہ ۱ تا ۷)