مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 226
سے قرآن شریف اور احادیث نبویہ میں خبر دی گئی ہے اور وعدہ دیا گیا ہے۔سو میں اسی الہام کی بنا پر اپنے تئیں وہ موعود مثیل سمجھتا ہوں جس کو دوسرے لوگ غلط فہمی کی وجہ سے مسیح موعود کہتے ہیں۔مجھے اس بات سے انکار بھی نہیں کہ میرے سوا کوئی اور مثیل مسیح بھی آنے والا ہو بلکہ ایک آنے والا تو خود میرے پر بھی ظاہر کیا گیا ہے جو میری ہی ذرّیّت میں سے ہو گا۔لیکن اس جگہ میرا دعویٰ جو بذریعہ الہام مجھے یقینی طور پر سمجھایا گیا ہے صرف اتنا ہے کہ قرآن شریف اور حدیث میں میرے آنے کی خبر دی گئی ہے۔مَیں اس سے ہرگز انکار نہیں کر سکتا اور نہ کرونگا کہ شاید مسیح موعود کوئی اور بھی ہو اور شاید یہ پیشگوئیاں جو میرے حق میں روحانی طور پر ہیں ظاہری طور پر اس پر جمتی ہوں اور شاید سچ مچ دمشق میں کوئی مثیلِ مسیح نازل ہو۔لیکن میرے پر یہ کھول دیا گیا ہے کہ مسیح ابن مریم جن پر انجیل نازل ہوئی تھی فوت ہو چکا ہے۔اور یحییٰ کی رُوح کے ساتھ اس کی رُوح دوسرے آسمان میں اور اپنے سماوی مرتبہ کے موافق بہشت بریں کی سیر کر رہی ہے۔اب وہ روح بہشت سے بموجب وعدہ الٰہی کے جو بہشتیوں کے لیے قرآن شریف میں موجود ہے نکل نہیں سکتی اورنہ دو موتیں ان پر وارد ہو سکتی ہیں۔ایک موت جو ان پر وارد ہوئی وہ تو قرآن شریف سے ثابت ہے اور ہمارے اکثر مفسر بھی اس کے قائل ہیں اور ابن عباس کی حدیث سے بھی اس کاثبوت ظاہر ہے اور انجیل میں بھی لکھا ہے اور نیز توریت میں بھی۔اب دوسری موت ان کے لیے تجویز کرنا خلاف نص و حدیث ہے۔وجہ یہ کہ کسی جگہ ذکر نہیں کیا گیا کہ وہ دو مرتبہ مریں گے۔یہ تو میرے الہامات اور مکاشفات کا خلاصہ ہے جو میرے رگ و ریشہ میں رچا ہوا ہے اور ایسا ہی اس پر ایمان رکھتا ہوں جیسا کہ کتاب اللہ پر اور اسی اقرار اور انہی لفظوں کے ساتھ میں مباہلہ بھی کرونگا اور جو لوگ اپنے شیطانی اوہام کو ربّانی الہام قرار دے کر مجھے جہنمی اور ضال قرار دیتے ہیں ایسا ہی ان سے بھی ان کے الہامات کے بارہ میں اللہ جَلَّ شَانُہٗ کی حلف لوں گا کہ کہاں تک انہیں اپنے الہامات کی یقینی معرفت حاصل ہے، مگر بہرحال مباہلہ کے لیے میں مستعد کھڑا ہوں، لیکن امور مفصلہ ذیل کا تصفیہ ہونا پہلے مقدم ہے۔اوّل یہ کہ چند مولوی صاحبان نامی جیسے مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی احمد اللہ صاحب امرتسری بالاتفاق یہ فتویٰ لکھ دیں کہ ایسی جزئیات خفیفہ میں اگر الہامی یا اجتہادی طور پر اختلاف واقع ہو تو اس کا فیصلہ بذریعہ لعن طعن کرنے اور ایک دوسرے کو بددعا دینے کے جس کا دوسرے لفظوں میں مباہلہ نام ہے کرنا جائز ہے کیونکہ میرے خیال میں جزئی اختلاف کی وجہ سے مسلمانوں کو لعنتوں کا نشانہ بنانا ہر گز