مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 227
نہیں کیونکہ ایسے اختلافات اصحابوں میں ہی شروع ہو گئے تھے۔مثلاً حضرت ابن عباس محدث کی وحی کو نبی کی وحی کی طرح قطعی سمجھتے تھے اور دوسرے ان کے مخالف تھے۔ایسے ہی صاحب صحیح بخاری کا یہ عقیدہ تھا کہ کتب سابقہ یعنی توریت و انجیل وغیرہ محرف نہیں ہیں۔اور اُن میں کچھ لفظی تحریف نہیں ہوئی حالانکہ یہ عقیدہ اجماع مسلمین کے مخالف ہے اور بایں ہمہ سخت مضر بھی ہے اور نیز بہ بداہت باطل ایسا ہی محی الدین ابن عربی رئیس المتصوفین کا یہ عقیدہ ہے کہ فرعون دوزخی نہیں ہے اور نبوت کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں ہو گا اور کفار کے لیے عذابِ جادوانی نہیں اور مذہب وحدۃ الوجود کے بھی گویا وہی موجد ہیں۔پہلے ان سے کسی نے ایسی واشگاف کلام نہیں کی۔سو یہ چاروں عقیدے ان کے ایسا ہی اور بعض عقائد بھی اجماع کے برخلاف ہیں۔اسی طرح شیخ عبد القادر جیلانی قَدّسَ سِرُّہ کا یہ عقیدہ ہے کہ اسمٰعیل ذبیح نہیں ہیں بلکہ اسحق ذبیح ہے حالانکہ تمام مسلمانوں کا اسی پر اتفاق ہے کہ ذبیح اسمٰعیل ہے اور عید الضحیٰ کے خطبہ میں اکثر ملّا صاحبان رو رو کر انہی کا حال سنایا کرتے ہیں۔اسی طرح صدہا اختلافات گزشتہ علماء و فضلاء کے اقوال میں پائے جاتے ہیں۔اسی زمانہ میں بعض علماء مہدی موعود کے بارہ میں دوسرے علماء سے اختلاف رکھتے ہیں کہ وہ سب حدیثیں ضعیف ہیں۔غرض جزئیات کے جھگڑے ہمیشہ سے چلے آتے ہیں مثلاً یزید پلید کی بیعت پر اکثر لوگوں کا اجماع ہو گیا تھا مگر امام حسینؓ نے اور ان کی جماعت نے اس اجماع کو قبول نہیں کیا اور اس سے باہر رہے اور بقول میاں عبدالحق اکیلے رہے۔حالانکہ حدیث صحیح میں ہے گو خلیفۂ وقت فاسق ہی ہو بیعت کر لینی چاہیے اور تخلّف معصیّت ہے۔پھر انہی حدیثوں پر نظر ڈال کر دیکھو جو مسیح کی پیشگوئی کے بارہ میں ہیں کہ کس قدر اختلافات سے بھری ہوئی ہیں۔مثلاً صاحب بخاری نے دمشق کی حدیث کو نہیں لیا اور اپنے سکوت سے ظاہر کر دیا کہ اس کے نزدیک یہ حدیث صحیح نہیں ہے اور ابنِ ماجہ نے بجائے دمشق کے بیت المقدس لکھا ہے اور اب حاصل کلام یہ ہے کہ ان بزرگوں نے باوجود ان اختلافات کثیرہ کے ایک دوسرے سے مباہلہ کی درخواست ہرگز نہیں کی اور ہرگز روا نہیں رکھا کہ ایک دوسرے پر لعنت کریں بلکہ بجائے لعنت کے یہ حدیث سُناتے رہے کہ اِخْتِلَافُ اُمَّتِیْ رَحْمَۃٌ۔اب یہ نئی بات نکلی ہے کہ ایسے اختلافات کے وقت میں ایک دوسرے پر لعنت کریں اور بددعا اور گالی اور دُشنام کر کے فیصلہ کرنا چاہیے ہاں اگر کسی ایک شخص پر سراسر تہمت کی راہ سے کسی فسق اور معصیت کا الزام لگایا جاوے جیسا کہ مولوی اسمٰعیل صاحب ساکن علی گڑھ نے اس عاجز پر لگایا تھا کہ نجوم سے کام لیتے ہیں اور اس کا نام الہام رکھتے ہیں تو مظلوم کو حق