مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 213 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 213

بے مصرف مسلمان نہ ہوں اور نہ ان نالائق لوگوں کی طرح جنہوں نے اپنے تفرقہ و نااتفاقی کی وجہ سے اسلام کو سخت نقصان پہنچایا ہے اور اس کے خوبصورت چہرہ کو اپنی فاسقانہ حالتوں سے داغ لگا دیا ہے اور نہ ایسے غافل درویشوں اور گوشہ گزینوں کی طرح جن کو اسلامی ضرورتوں کی کچھ بھی خبر نہیں اور اپنے بھائیوں کی ہمدردی سے کچھ غرض نہیں اور بنی نوع کی بھلائی کے لیے کچھ جوش نہیں بلکہ وہ ایسے قوم کے ہمدرد ہوں کہ غریبوں کی پناہ ہو جائیں۔یتیموں کے لیے بطور باپوں کے بن جائیں اور اسلامی کاموں کے انجام دینے کے لیے عاشق زار کی طرح فدا ہونے کو تیار ہوں اور تمام تر کوشش اس بات کے لیے کریں کہ ان کی عام برکات دنیا میں پھیلیں۔اور محبتِ الٰہی اور ہمدردی بندگان خدا کا پاک چشمہ ہر یک دل سے نِکل کر اور ایک جگہ اکٹھا ہو کر ایک دریا کی صورت میں بہتاہوا نظر آوے۔خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے کہ محض اپنے فضل اور کرامت خاص سے اس عاجز کی دعاؤں اور اس ناچیز کی توجہ کو ان کی پاک استعدادوں کے ظہور و بروز کا وسیلہ ٹھیراوے۔اور اس قدوس جلیل الذات نے مجھے جوش بخشا ہے تا میں ان طالبوں کی تربیت باطنی میں مصروف ہو جائوں اور ان کی آلودگیوں کے ازالہ کے لیے دن رات کوشش کرتا رہوں اور ان کے لیے وہ نُور مانگوں جس سے انسان نفس اور شیطان کی غلامی سے آزاد ہو جاتا ہے اور بالطبع خدا تعالیٰ کی راہوں سے محبت کرنے لگتا ہے اور ان کے لیے وہ روح قدس طلب کروں جو ربوبیت تامہ اور عبودیت خالصہ کے کامل جوڑ سے پیدا ہوتی ہے اور اس رُوحِ خبیث کی تسخیر سے ان کی نجات چاہوں کہ جو نفسِ امّارہ اور شیطان کے تعلق شدید سے جنم لیتی ہے۔سو مَیں بِتَوْفِیْقِہٖ تَعَالٰی کاہل اور سُست نہیں رہوں گا اور اپنے دوستوں کی اصلاح طلبی سے جنہوں نے اس سلسلہ میں داخل ہونا بصدق قدم اختیار کر لیا ہے غافل نہیں ہوں گا بلکہ ان کی زندگی کے لیے موت تک بقیہ حاشیہ۔خلوص سے اس گورنمنٹ کے خیر خواہ اور دُعا گو ہوں گے۔کیونکہ بموجب تعلیم اسلام (جس کی پیروی اس گروہ کا عین مدعا ہے) حقوق عباد کے متعلق اس سے بڑھ کر کوئی گناہ کی بات اور خبث اور ظلم اور پلید راہ نہیں کہ انسان جس سلطنت کے زیر سایہ بامن و عافیت زندگی بسر کرے اور اس کی حمایت سے اپنے دینی و دنیاوی مقاصد میں بآزادی کی کوشش کر سکے اسی کا بدخواہ و بداندیش ہو بلکہ جب تک ایسی گورنمنٹ کا شکرگزار نہ ہو تب تک خدا تعالیٰ کا بھی شکرگزار نہیں۔پھر دوسرا فائدہ اس بابرکت گروہ کی ترقی سے گورنمنٹ کو یہ ہے کہ ان کا عملی طریق موجب انسداد جرائم ہے۔فَـتَـفَکَّرُوْا وَ تَأَمَّلُوْا۔