مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 147
بھی تیرے نکاح میں آئیں گی اور ان سے اولاد پیدا ہوگی اس پیشگوئی پر منشی صاحب فرماتے ہیں کہ الہام کئی قسم کا ہوتا ہے نیکوں کو نیک باتوں کا اور زانیوں کو عورتوں کا۔ہم اس جگہ کچھ لکھنا نہیں چاہتے ناظرین منشی صاحب کی تہذیب کا آپ اندازہ کرلیں۔پھر ایک اور صاحب ملازم دفتر ایگزیمنر صاحب ریلوے لاہور کے جو اپنا نام نبی بخش ۱؎ ظاہر کرتے ہیں اپنے خط مرسلہ ۱۳؍ جون ۱۸۸۶ء میں اس عاجز کو لکھتے ہیں کہ تمہاری پیشگوئی جھوٹی نکلی اور دختر پیدا ہوئی اور تم حقیقت میں بڑے فریبی اور مکّار اور دروغ گو آدمی ہو۔ہم اس کے جواب میں بجز اس کے کیا کہہ سکتے ہیں کہ اے خدائے قادر مطلقیہ لوگ اندھے ہیں ان کو آنکھیں بخش یہ نادان ہیں ان کو سمجھ عطا کر یہ شرارتوں سے بھرے ہوئے ہیں ان کو نیکی کی توفیق دے۔بھلا کوئی اس بزرگ سے پوچھے کہ وہ فقرہ یا لفظ کہاں ہے جو کسی اشتہار میں اس عاجز کے قلم سے نکلا ہے جس کا یہ مطلب ہے کہ لڑکا اسی حمل میں پیدا ہوگا اس سے ہرگز تخلف نہیں کرے گا۔اگر میں نے کسی جگہ ایسا لکھا ہے تو میاں نبی بخش صاحب پر واجب ہے کہ اس کو کسی اخبار میں چھپادیں۔اس عاجز کے اشتہارات پر اگر کوئی منصف آنکھ کھول کر نظر ڈالے تو اسے معلوم ہوگا کہ ان میں کوئی بھی ایسی پیشگوئی درج نہیں جس میں ایک ذرہ غلطی کی بھی گرفت ہوسکے بلکہ وہ سب سچی ہیں اور عنقریب اپنے وقت پر ظہور پکڑ کر مخالفین کی ذلت اور رسوائی کا موجب ہوں گی۔دیکھو ہم نے ۲۰؍ فروری ۱۸۸۶ء میں جو یہ پیشگوئی اجمالی طور پر لکھی تھی کہ ایک امیر نووارد پنجابی الاصل کو کچھ ابتلا درپیش ہے کیسی وہ سچی نکلی۔ہم نے صدہا ہندوئوں اور مسلمانوں کو مختلف شہروں میں بتلا دیا تھا کہ اس شخص پنجابی الاصل سے مراد دلیپ سنگھ ہے جس کی پنجاب میں آنے کی خبر مشہور ہورہی ہے لیکن اس ارادہ سکونت پنجاب میں وہ ناکام رہے گا بلکہ اس سفر میں اس کی عزت و آسائش یا جان کا خطرہ ہے اور یہ پیشگوئی ایسے وقت میں لکھی گئی اور عام طور پر بتلائی گئی تھی یعنی ۲؍ فروری ۱۸۸۶ء کو جبکہ اس ابتلا کا کوئی اثر و نشان ظاہر نہ تھا۔بالآخر اس کو مطابق اسی پیشگوئی کے بہت حرج اور تکلیف اور سُبکی اور خجالت اٹھانی پڑی اور اپنے مدعا سے محروم رہا سو دیکھو اس پیشگوئی کی صداقت کیسی کھل گئی اسی طرح ؎ یہ صاحب بعد میں احمدیّت میں داخل ہو گئے اور بہت مخلص ثابت ہوئے۔(مرتب