مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 121 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 121

سال تک کوئی نشان نہ دیکھیں یا کسی نشان کو جھوٹا پاویں تو بے شک اس کو مشتہر کر دیں اور اخباروں میں چھپوا دیں۔یہ امر کسی نوع سے موجب ناراضگی نہ ہو گا۔اور نہ آپ کے دوستانہ تعلقات میں کچھ فرق آئے گا۔بلکہ یہ وہ بات ہے جس میں خدا بھی راضی اور ہم بھی۔اور ہر ایک منصف بھی۔اور چونکہ آپ لوگ شرط کے طور پر کچھ روپیہ نہیں مانگتے۔صرف دلی سچائی سے نشانوں کا دیکھنا چاہتے ہیں۔اس لیے اس طرف سے بھی قبولِ اسلام کے لیے شرط کے طور پر آپ سے کچھ گرفت نہیں۔بلکہ یہ بات بقول آپ لوگوں کے توفیق ایزدی پر چھوڑی گئی ہے اور اخیر پر دلی جوش سے یہ دُعا ہے کہ خداوند قادر و کریم بعد دکھلانے کسی نشان کے آپ لوگوں کو غیب سے قوت ہدایت پانے کی بخشے۔تا آپ لوگ مائدہ رحمتِ الٰہی پر حاضر ہو کر پھر محروم نہ رہیں۔اَے قادرِ مطلق کریم و رحیم ہم میں اور ان میں سچا فیصلہ کر اور تو ہی بہترفیصلہ کرنے والا ہے۔اور کوئی نہیں کہ بجز تیرے فیصلہ کر سکے۔آمین ثم آمین وَ اٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ خاکســــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــار احقر عباد اللہ غلام احمد عفی اللہ عنہ شہادت گواہانِ حاضر الوقت ہم لوگ جن کے نام نیچے درج ہیں۔اس معاہدۂ فریقین کے گواہ ہیں۔ہمارے رو برو ساہوکارانِ قادیانی نے جن کے نام اوپر درج ہیں اپنے خط کے مضمون کو حلفاً تصدیق کیا۔اور اسی طرح مرزا غلام احمد صاحب نے بھی۔گواہ شد گواہ شد گواہ شد میر عباس علی لودھیانوی فقیر عبد اللہ سنوری شہاب الدین تھہ غلام نبی والا (مطبوعہ ریاض ہند امرت سر ) (تبلیغ رسالت جلد ۱ صفحہ ۵۳، ۵۴)  ضمیمہ اخبار ریاض ہند امرتسر مطبوعہ یکم مارچ ۱۸۸۶ء  نَحْمَدُہٗ وَ نُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ (۱) جان و دلم فدائے جمال محمدؐ است خاکم نثار کوچۂ آلِ محمدؐ است۱؎ (۲) دیدم بعینِ قلب و شنیدم بگوشِ ہوش در ہر مکاں ندائے جلالِ محمدؐ است (۳) ایں چشمۂ رواں کہ بخلقِ خُدا دِہم یک قطرۂ زِ بحرِ کمالِ محمدؐ است (۴) ایں آتشم زِ آتشِ مہرِ محمدیست و ایں آبِ من زِ آبِ زلالِ محمدؐ است رسالَہ سراج منیر مشتمل بر نشانہائے ربّ قدیر یہ رسالہ اس احقر (مؤلّف براہین احمدیہ) نے اس غرض سے تالیف کرنا چاہا ہے کہ تا منکرین حقیّتِاسلام اور مکذّبین رسالت حضرت خیر الا نام عَلَیْہِ وَ آلِہٖ اَلْفُ اَلْفِ سَلَام کی آنکھوں کے آگے ایک ایسا چمکتا ہوا چراغ رکھا جائے جس کی ہر ایک سمت سے گوہر آبدار کی طرح روشنی نکل رہی ہے اور بڑی بڑی پیشگوئیوں پر جو ہنوز وقوع میں نہیں آئیں، مشتمل ہے۔چنانچہ خود خداوند کریم جَلَّ شَانُہٗ وَ عَزَّ اِسْمُہٗ نے جس کو پوشیدہ بھیدوں کی خبر ہے۔اس ناکارہ کو بعض اسرار مخفیہ و اخبار ۱؎ ترجمہ اشعار۔(۱)میری جان و دل محمدؐ کے جمال پر فدا ہیں اور میری خاک آلِ محمدؐ کے کوچے پر قربان ہیں۔(۲)میں نے دل کی آنکھوں سے دیکھا اور عقل کے کانوں سے سنا ہر جگہ محمدؐ کے جلال کا شہرہ ہے۔(۳) معارف کا یہ چشمہ جو میں مخلوق خدا کو دے رہا ہوں، محمدؐ کے کمالات کے سمندر میں سے ایک قطرہ ہے۔(۴) یہ میری آگ محمدؐ کے عشق کی آگ کا ایک حصہ ہے اور میرا پانی محمدؐ کے مصفّٰی پانی میں سے لیا ہوا ہے۔