مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 122
غیبیہ پر مطلع کر کے بار عظیم سے سبکدوش فرمایا۔حقیقت میں اسی کا فضل ہے اور اسی کا کام جس نے چار طرفہ کشاکش مخالفوں و موافقوں سے اس ناچیز کو مَخلصی بخشی۔ع ـ قصہ کو تاہ کرد ورنہ دردِ سر بسیار بود اب یہ رسالہ قریب الاختتام ہے اور انشاء اللہ القدیر صرف چند ہفتوں کا کام ۱؎ ہے۔اور اس رسالہ میں تین قسم کی پیش گوئیاں ہیں۔اوّل وہ پیشگوئیاں جو خود اس احقر کی ذات سے تعلّق رکھتی ہیں۔یعنی جو کچھ راحت یا رنج یا حیات یا وفات اس ناچیز سے متعلق ہے یا جو کچھ تفضلات یا انعامات الہٰیہ کا وعدہ اس نا چیز کو دیا گیا ہے وہ ان پیشگوئیوں میں مندرج ہے۔دوسری وہ پیشگوئیاں جو بعض احباب یا عام طور پر کسی ایک شخص یا بنی نوع سے متعلق ہیں۔اور ان میں سے ابھی کچھ کام باقی ہے اور اگر خدا تعالیٰ نے چاہا تو وہ بقیہ بھی طے ہو جاوے گا۔تیسری وہ پیشگوئیاں جو مذاہب غیر کے پیشوائوں یا واعظوں یا ممبروں سے تعلق رکھتی ہیں۔اور اس قسم میں ہم نے صرف بطور نمونہ چند آدمی آریہ صاحبوں اور چند قادیان کے ہندوئوں کو لیا ہے جن کی نسبت مختلف قسم کی پیشگوئیاں ہیں۔کیونکہ انہیں میں آج کل نئی نئی تیزی اور انکار اشد پایا جاتا ہے اور ہمیں اس تقریب پر یہ بھی خیال ہے کہ خداوند کریم ہماری محسن گورنمنٹ انگلشیہ کو جس کے احسانات سے ہم کو بتمام تر فراغت و آزادی گوشہ خلوت میّسر و کنج امن و آسائش حاصل ہے ظالموں کے ہاتھ سے اپنی حفظ و حمایت رکھے اور روس منحوس کو اپنی سرگردانیوں میں محبوس و معکوس و مبتلا کر کے ہماری گورنمنٹ کو فتح و نصرت نصیب کرے۔تا ہم وہ بشارتیں بھی (اگر مل جائیں) اس عمدہ موقع پر درج رسالہ کر دیں۔انشاء اللہ تعالیٰ اور چونکہ پیشگوئیاں کوئی اختیاری بات نہیں ہے۔تا ہمیشہ اور ہر حال میں خوشخبری پر دلالت کریں۔اس لیے ہم بانکسار تمام اپنے موافقین و مخالفین کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ اگر وہ کسی پیشگوئی کو اپنی نسبت ناگوار طبع (جیسے خبر موت فوت یا کسی اور مصیبت کی نسبت) پاویں تو اس بندۂ ناچیز کو معذور تصور فرماویں۔بالخصوص وہ صاحب جو بباعث ۱؎ یہ رسالہ بعض مصالح کی وجہ سے اب تک ۲۵؍ فروری ۱۸۹۳ء ہے چھپ نہیں سکا مگر متفرق طور پر اس کی بعض پیشگوئیاں شائع ہوتی رہی ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ آئندہ بھی شائع ہوتی رہیں گی۔منہ