مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 120
اگر ایک سال تک کوئی نشان نہ دیکھیں یا کسی نشان کو جھوٹا پاویں تو بے شک اس کو مشتہر کر دیں اور اخباروں میں چھپوا دیں۔یہ امر کسی نوع سے موجب ناراضگی نہ ہو گا۔اور نہ آپ کے دوستانہ تعلقات میں کچھ فرق آئے گا۔بلکہ یہ وہ بات ہے جس میں خدا بھی راضی اور ہم بھی۔اور ہر ایک منصف بھی۔اور چونکہ آپ لوگ شرط کے طور پر کچھ روپیہ نہیں مانگتے۔صرف دلی سچائی سے نشانوں کا دیکھنا چاہتے ہیں۔اس لیے اس طرف سے بھی قبولِ اسلام کے لیے شرط کے طور پر آپ سے کچھ گرفت نہیں۔بلکہ یہ بات بقول آپ لوگوں کے توفیق ایزدی پر چھوڑی گئی ہے اور اخیر پر دلی جوش سے یہ دُعا ہے کہ خداوند قادر و کریم بعد دکھلانے کسی نشان کے آپ لوگوں کو غیب سے قوت ہدایت پانے کی بخشے۔تا آپ لوگ مائدہ رحمتِ الٰہی پر حاضر ہو کر پھر محروم نہ رہیں۔اَے قادرِ مطلق کریم و رحیم ہم میں اور ان میں سچا فیصلہ کر اور تو ہی بہترفیصلہ کرنے والا ہے۔اور کوئی نہیں کہ بجز تیرے فیصلہ کر سکے۔آمین ثم آمین وَ اٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ خاکســــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــار احقر عباد اللہ غلام احمد عفی اللہ عنہ شہادت گواہانِ حاضر الوقت ہم لوگ جن کے نام نیچے درج ہیں۔اس معاہدۂ فریقین کے گواہ ہیں۔ہمارے رو برو ساہوکارانِ قادیانی نے جن کے نام اوپر درج ہیں اپنے خط کے مضمون کو حلفاً تصدیق کیا۔اور اسی طرح مرزا غلام احمد صاحب نے بھی۔گواہ شد گواہ شد گواہ شد میر عباس علی لودھیانوی فقیر عبد اللہ سنوری شہاب الدین تھہ غلام نبی والا (مطبوعہ ریاض ہند امرت سر ) (تبلیغ رسالت جلد ۱ صفحہ ۵۳، ۵۴)