ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 85
مرا۔اسی کے ذمے بار ثبوت ہے کہ اس کو زندہ دکھائے یا ثابت کرے ورنہ موت ظاہر ہے۔حیات عیسیٰ کا دعویٰ کرنے والے پر بار ثبوت ہے۔(۱۴؍اگست ۱۹۱۲ء) کتابیں باہر نہیں جا سکتیں فرمایا۔کتابوں کا یہاں سے منگوانے کا طریق درست نہیں۔ہمارے کتب خانہ میں عموماً ہرایک کتاب کا ایک ایک نسخہ ہوتا ہے اور اس کی یہاں بھی ضرورت رہتی ہے کیونکہ اکثر لوگ یہاں آکر ان مسائل کے متعلق دریافت کرتے رہتے ہیں اور ان کو کتابیں دکھانے کی ضرورت رہتی ہے۔مباحثات کا دامن وسیع ہے ہر جگہ احباب کے ساتھ ایسی گفتگو چھڑی رہتی ہے۔ہم کہاں کہاں کتابیں بھیج سکتے ہیں۔(۱۴؍اگست ۱۹۱۲ء) (ماخوذ از کلام امیر۔البدر جلد ۱۲ نمبر ۸ مورخہ ۲۲؍اگست ۱۹۱۲ء صفحہ ۳) قرآن رمضان (البقرۃ : ۱۸۶) کے معنے حضرتخلیفۃ المسیح نے یہ فرمائے ہیں کہ رمضان کا مہینہ ایسا بابرکت ہے کہ اُس کے متعلق قرآن شریف میں ذکر ہوا ہے اور اس میں ایک خاص عبادت کے احکام نازل ہوئے ہیں۔کیا ہی سچے اور صحیح معنے ہیں۔بعض مفسرین نے اس کلمہ طیبہ کے یہ معنے کئے ہیں کہ قرآن شریف سارا یک دفعہ رمضان کے مہینہ میں نازل ہوا تھا۔پھر اس تفسیر کو قرآن شریف کے تئیس ۲۳ سالہ نزول مختلف اوقات و مختلف مقامات کے مخالف پا کر اپنی تفسیر کی۔یوں تفسیر کی ہے کہ پہلے رمضان کے مہینہ میں قرآن شریف اکٹھا کسی آسمان پر نازل ہوا تھا وہاں سے رفتہ رفتہ تئیس ۲۳ سال کے عرصہ میں زمین پر آیا۔بعض اصحاب نے کچھ اور توجیہات بھی نکالی ہیں۔مثلاً یہ کہ قرآن شریف کا کچھ حصہ ماہ رمضان میں بھی نازل ہوا۔اور یہ صحیح بات ہے لیکن میری رائے میں قرآن شریف کے ماہ رمضان میں نازل ہونے کی ایک صحیح تاویل یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس مبارک مہینہ میں قرآن شریف کے پڑھنے اور سننے اور اس پر عمل کرنے کا اس قدر موقع ہوتا ہے کہ گویا اس ماہ میں ہر سال نئے طور پر قرآن شریف نازل ہوتا ہے۔مجھے جنٹلمینوں