ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 86
کی تو خبر نہیں جو ملاقاتوں، تماشائوں اور ناول خوانی وغیرہ سے فارغ ہو کر رات کے ۲ بجے بستر پر گرے تو صبح کے دس بجے اُٹھ کر چائے پی مگر پرانے لوگوں میں اتنی نیکی اب تک چلی آتی ہے کہ گیارہ مہینے کیسی ہی غفلت میں گزرے ہوںرمضان کے روزے ضرور اہتمام سے رکھے جاتے ہیں اور اس ماہ میں نمازوں کی پابندی بھی کی جاتی ہے اور صدقہ وخیرات کا دروازہ بھی حسب مقدور کھولا جاتا ہے۔یہ تو عام اسلامی دنیا کا رنگ ہے ہی لیکن قادیان کا رمضان قرآن شریف کے پڑھنے اور سننے کے لحاظ سے ایک خصوصیت رکھتا ہے۔تہجد کے وقت مسجد مبارک کی چھت پر اللہ اکبر کا نعرہ بلند ہوتا ہے۔صوفی تصورحسین صاحب خوش الحانی سے قرآن شریف تراویح میں سناتے ہیں۔حضرت صاحبزادہ صاحب میاں محمود احمد صاحب بھی قرآن شریف سننے کے لئے اسی جماعت میں شامل ہوتے ہیں۔تراویح ختم ہوئیں تو تھوڑی دیر میں اَلصَّلٰوۃُ خَیْرٌ مِّنَ النَّوْمِکی آواز بلند ہوتی ہے۔زاہد وعابد تو تہجد کی نماز کے بعد اذان فجر کے انتظار میں جاگ ہی رہے ہوتے ہیں۔دوسرے بھی بیدار ہو کر حضرت صاحبزادہ صاحب کے لحن میں کسی محبوب کی آواز کی خوشبو سے اپنے دماغوں کو معطر کرتے ہوئے فریضہ صلوٰۃ فجر کو ادا کرتے ہیں۔جس کے بعد مسجد کی چھت قرآن الفجر کے محبین سے گونجے لگتی ہے۔مگر چونکہ حضرت خلیفۃ المسیح جلد اپنے مکان کے صحن میں درس دینے والے ہوتے ہیں اس واسطے ہر طرف سے متعلمان درس بڑے اور چھوٹے بچے اور بوڑھے پیارا قرآن بغلوں میں دبائے حضرت کے مکان کی طرف دوڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔تھوڑی دیر میں صحن مکان بھر جاتا ہے۔حضرت کے انتظار میں کوئی اپنی روزانہ منزل پڑھ رہا ہے، کوئی کل کے پڑھے ہوئے کو دُہرا رہا ہے۔کیا مبارک فجر ہے مومنوں کی۔تھوڑی دیر میں حضرت کی آمد اور قرآن خوانی سے ساری مجلس بُقعۂ نور نظر آنے لگتی ہے۔نصف پارہ کے قریب پڑھا جاتا ہے۔اس کا ترجمہ کیا جاتا ہے تفسیر کی جاتی ہے۔سائلین کے سوالات کے جواب دئیے جاتے ہیں۔تقویٰ وعمل کی تائید بار بار کی جاتی ہے۔لطیف مثالوں سے مطالب کو عام فہم اور آسان کر دیا جاتا ہے۔اس کے بعد اندرون مکان میں عورتوں کو درس قرآن دیا جاتا ہے۔پھر ظہر کے بعد سب لوگ مسجد اقصیٰ میں جمع ہوتے ہیں۔وہاں حضرت خلیفۃ المسیح بھی تشریف لے جاتے ہیں اور صبح کی طرح وہاں پھر درس ہوتا ہے۔بعد مغرب مسجد اقصیٰ میں حافظ جمال الدین صاحب تراویح میں قرآن شریف سناتے ہیں اور حضرت