ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 78 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 78

رکھیں جیسے عبداللہ یا عبدالرحمن یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموں پر جیسے محمدعلی یا احمدحسن وغیرہ۔اور ساتویں دن روز پیدائش سے حساب کرکے عقیقہ کریں کہ سنت ہے۔اگر بیٹا ہوتو دو بکرے اگر مقدور ہو، ورنہ ایک بھی درست ہے اور اگر بیٹی ہو تو ایک بکری نذراللہ ذبح کریں اور گوشت احباب اور عزیزوں کو، مسکینوں کو دیں۔بکری میں نرومادہ کی کوئی احتیاط نہیں مگر اعضا سب درست ہوں۔بچہ کے بالوں کے برابر وزن چاندی خیرات کریں۔بکرا ذبح کرتے وقت یہ دعا پڑھے مگر جس وقت بال نائی اتارے اسی وقت بکرا بھی ذبح ہو۔دعا کا ترجمہ یہ ہے کہ اے اللہ یہ میرے فلانے بیٹے کے لیے قربانی ہے۔لہو اس کا بدلہ ہے اس کے لہو کا، گوشت اس کا عوض ہے اس کے گوشت کا اور ہڈی اس کا بدلہ ہے اس کی ہڈی کا۔اس طرح سے سب عضو کا نام لے کر حتیٰ کہ بالوں تک بھی کہے۔ختنہ سنت ہے اور جس کا پیدائشی ختنہ کیا ہوا ہو اس کا دوبارہ کرنا لازم نہیں ہے۔ختنہ میں تمام جلد یا نصف سے زیادہ کٹ جاوے تو جائز ہے۔اگر نصف کٹے تو ناجائز ہوگی۔(البدر جلد۱۲ نمبر۷ مورخہ ۱۵؍ اگست ۱۹۱۲ء صفحہ ۲) ملفوظات حضرت خلیفۃ المسیح ؓ منّاد فرمایا۔مسیحی لوگ واعظوں کو مَنّاد کہتے ہیں۔یہ کوئی لفظ نہیں ہے اصل لفظ مُنَادِی ہے اور مُنَادی کرنے والے کو نادی کہتے ہیں۔یورپین کی ناواقفی (اٰل عمران:۱۹۶) اس پر ایک لطیفہ فرمایا کہ ہندوستان میں ابھی علم نہیں۔عیسائی لوگوں نے اور یورپین نے مسلمانوں کو بڑا ذلیل سمجھ رکھا ہے۔ایک لکھتا ہے کہ ازہر ایک مدرسہ مصر میں ہے۔میں ایک انگریز کے ساتھ تھا ایک لڑکی مسجد میں آگئی وہ دیر تک اس کو دیکھتا رہا۔میں حیران رہا اور پوچھا کہ اس میں کیا ہے جو تم اس قدر حیرت سے