ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 79
اس کی طرف دیکھ رہے ہو؟ اس نے کہا کہ ہم نے یورپ میں پڑھا تھا کہ مسلمانوں نے عورت میں روح کو مانا ہی نہیں اور وہ مسجد میں آ ہی نہیں سکتی۔میں نے آج اس لڑکی کو مسجد میںدیکھا ہے کہ مسلمان تو عورت کا وجود مانتے ہیں اور ان کو موجود سمجھتے ہیں۔عورتوں کے حقوق ایک آریہ مجھ سے کہنے لگا کہ آخر عورت بھی کوئی چیز ہے۔میں نے کہا کہ عورت تو ہماری ماں ہے۔اس نے کہا کہ اس کے حقوق کیوں نہیں لکھے؟ میں نے یہ آیت نکال کر دکھائی کہ کوئی نیکی کرے عورت ہو یا مرد، ہم اس کی نیکی کو ضائع نہیں کرتے۔وہ میرے ہاتھ سے قرآن لے کر غور سے دیکھتا رہا۔اس نے کہا کہ ہم کو تو یہ پڑھایا گیا ہے کہ مسلمانوں کے ہاں عورت کوئی چیز ہی نہیں۔انگریزوں نے ایک ذلت عورت کی تو یہ کی ہے کہ عورت کے باپ کی قوم اور اس کا نام سب کچھ چھین لیتے ہیں خاوند کی طرف لیڈی منسوب ہوجاتی ہے۔دوسرے اس سے بڑھ کر یہ کہ اگر ارب روپیہ بھی والدین سے لے آوے تو ایک پیسہ کا معاہدہ بھی خاوند کے اذن کے سوا نہیں کرسکتی۔ایک دفعہ ایک عیسائی نے ہماری دعوت کی۔اندر سے بلایا ’’لیڈی پیٹرسن‘‘! میں نے کہا کہ عورتوں کے حقوق پر ہی تو بحث تھی سو ایک تو تم نے اس کا نام و نشان ہی بُرد کردیا۔دوسرے یہ کہ وہ ایک پیسہ کا معاہدہ بھی خاوند کے اذن کے سوا نہیں کرسکتی۔پس ہمارا تمہارا مباحثہ تو ختم ہوگیا۔ـــــــــــ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔