ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 70 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 70

سب حال معلوم ہے پھر دعا کرانے کی کیا ضرورت ہے؟ اس پر فرمایا۔پیغمبر صاحب ﷺ نے حضرت عمر کو فرمایا تھا جب وہ مکہ جانے لگے لَا تَنْسَانِیْ مِنَ الدُّعَائِ (یعنی مجھے دعا سے نہ بھلانا) وہ کتنے بڑے آدمی تھے۔ان سے بڑا تو کوئی نہیں ہوسکتا۔بے شک اللہ تعالیٰ سب کچھ جانتا ہے مگر دعا بھی اسی نے بتائی ہے۔نمازیں بھی اسی نے فرمائی ہیں روزے بھی اسی نے فرمائے ہیں۔قرآن شریف سائنس کی طرف متوجہ کرتا ہے ۱۸ ؍مارچ ۱۹۱۲ء۔فرمایا۔ہماری کتاب بڑی عجیب ہے۔ہماری کیا؟ حضرت نبی کریم ﷺ کی بلکہ اللہ تعالیٰ کی۔دنیا کی کوئی کتاب نہیں جو سائنس کی طرف توجہ دلاتی ہو۔قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔(البقرۃ : ۱۶۵) اس میں آسمان کی بناوٹ کا ذکر ہے۔ پھر زمین کے بارہ میںسارا علم جیالوجی داخل کردیامیں علم جغرافیہ آجاتا ہے۔اس میں سٹیمر، جہاز، قطب شمالی کی سوئی، سمندر، پانی، ہوا اور کشتیوں کا علم آجاتا ہے۔ اس میں بخارات اور بارشوں اور نباتات کا علم آجاتا ہے۔اس میں جانوروں کا علم آجاتا ہے۔ اس میںہوا اور ہوا کی قسموں کا ذکرہے۔کاربالک ہائیڈروجن وغیرہ موٹی موٹی چیزیں ہیں۔علاوہ ان کے اور بھی ہوا میں کئی اجزا ہیں۔بادلوں میں روشنی، لچک، ایتھر کاکارخانہ الگ ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہماری کتاب کسی علم سے نہیں ڈرتی۔ اس میں نشان ملتے ہیں مگر عقلمندوں کے لئے۔وہ کون لوگ ہیں (اٰل عمران: ۱۹۲) اس میں اب ہی مجھے ایک لطیفہ خیال میں آیا کہ اس موجودہ سائنس پر جس قدر لوگ غور کرتے ہیں وہ دو قسم کے ہیں۔ایک وہ جو اٹھتے بیٹھتے جب سوچتے ہیں تو ساتھ ہی خدا کو بھی یاد کرلیتے ہیں۔ایک وہ جو قدرت الٰہی پر غور کرتے ہیں تو مولا کو بھول جاتے ہیں۔یہاں یہ فرمایا ہے کہ اگر تم سائنس پر غور کرو