ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 67 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 67

بچارے کن مصیبتوں سے کماتے ہیں اور حلال طیب رزق کمانا سخت مصیبت کا کام ہے۔پھر اگر بیوی تنگ کرے توحرام مال لانا پڑتا ہے۔میں نے بعض عورتوں کو کچھ نصیحت کی۔تو کہہ دیا آپ ہنسی کرتے ہیں یا کہ … اجی آپ سیدھے سادے آپ کو دنیاوی معاملات کی کیا خبر! بدظنی نہ کرو فرمایا۔بدظنی نہ کرو ، بدظنی سخت گناہ کا کام ہے۔عورتوں میں خاص کر یہ مرض بہت پھیلا ہوا ہے۔امام شعرانی نے ایک لطیفہ لکھا ہے کہ ایک ولی اللہ لڑکوں سے خدمت لیتے مگر بدظن لوگوں نے بہتان باندھا کہ یہ سیاہ کار ہے۔آخر کار ایک دن انہوں نے دعا کی کہ یا مولیٰ کریم ! اس محلہ میں اور مجھ میں فیصلہ کردے۔آخر امام شعرانی فرماتے ہیں۔میں نے وہ محلہ دیکھا ہے اس میں اب تک کنچنیاں اور گنڈے اور ہیجڑے آباد ہیں۔اللہ تعالیٰ بڑی غیرت والا ہے۔عورتوں کا حصہ فرمایا۔لوگ اب عورتوں کو حصہ نہیں دیتے ہم نے کسی شخص کو نصیحت کی کہ یہ مال اپنی بہن کو دے دو۔کہا میں کچھ نہیں دوں گا مگر اس کو بھی کچھ نہ ملا۔اچھے اخلاق فرمایا۔اچھے اخلاق یہ ہیں۔دغا، فریب، جھوٹ، تکبر، غیبت، کم حوصلگی سے بچنا۔مہمان نوازی، اخلاق سے پیش آنا۔دینی باتوں کی ہنسی نہ اڑائو فرمایا۔دین کی باتوں کی ہنسی نہ اڑاؤ۔جو دین کی باتوں کو حقیر جانے اس کو مطلق محبت کی نگاہ سے نہ دیکھو۔اذان میں اللہ اکبر کیا اعلیٰ درجہ کا فقرہ ہے پھر ساری اذان کو غور سے سنو تو کیا لطیف مضمون ہے مگر ہمارے ملک کے لوگ اذان ہوتی تو کھڑے ہو کر سنتے اور پھر چل پڑتے ہیں مگر اذان تو نماز کو بلانے والی ہوتی ہے۔عورتوں کی نماز میں سستی فرمایا۔عورتیں نماز میں بے حد سست ہوتی ہیں خاص کر عصر، شام، فجر کو تو ضرور بہانہ بنالیتی ہیں کہ روٹی پکانی ہے۔ادائیگی نماز میں آسانی فرمایا۔یہ آسان بات ہے کہ غریب بی بی شام کو روٹی پکائے تو ایک پانی کا لوٹا اور جا نماز چولہے پاس رکھ لے جب اذان ہو وضو کر وہیں نماز پڑھ لے۔