ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 65
صرف مرید کہلانا مفید نہیں ایک شخص کا خط پیش ہو ا کہ آپ کے ایک مرید نے جھوٹی گواہی دی ہے۔فرمایا۔میری مریدی پر کیا منحصر ہے؟ لوگ امت محمدیہ میں شامل ہوکر زنا، چوری اور ڈاکہ زنی کرتے ہیں۔رنڈیاں بھی مسلمان اور محبان حسین کے گروہ میں شامل ہیں۔خدا کی مخلوق میں کیا کچھ بدیاں ہیں۔کسی قوم میں داخل ہونے سے یا کسی کے مرید کہلانے سے کچھ نہیں بنتا جب تک کہ انسان اپنے اعمال کو درست نہ کرے۔ذریعہ نجات ایک شخص نے حضرت خلیفۃ المسیحؑ سے سوال کیا کہ حضرت مرزا صاحب کے ماننے کے بغیر نجات ہے یا نہیں؟ فرمایا۔اگرخدا کا کلام سچ ہے تو مرزا صاحب کے ماننے کے بغیر نجات نہیں ہوسکتی۔محمد ظہیر الدین اروپی کچھ عرصہ ہوا اخبار بدر میں ایک اعلان نکلا تھا کہ بعض لوگ خودبخود اشتہار چھاپتے ہیں ایسے اشتہارات سلسلہ احمدیہ کی طرف سے نہ سمجھے جائیں کیونکہ حضرت خلیفۃ المسیح کی اجازت اور رضامندی سے وہ نہیں ہوتے۔اس پر منشی محمد ظہیرالدین صاحب اروپی کے ایک خط کی تحریک پر حضرت خلیفۃ المسیح نے حکم دیا ہے کہ اخبار میں شائع کردیا جاوے کہ ’’اس اعلان کے ساتھ محمد ظہیرالدین کا کوئی تعلق نہ تھا بلکہ وہ اعلان مولوی یار محمد و عبداللہ تیماپوری کے متعلق تھا مگر افسوس محمد ظہیرالدین نے اس کی عجیب تلافی کی ہے کہ اپنے ایک تازہ خط میں مجھے اطلاع کی ہے کہ میرا آپ کے بعض عقائد کے ساتھ اختلاف ہے۔لہٰذا میں ان کی تحریر کے مطابق اپنی جماعت کو اطلاع دیتا ہوں۔محمدظہیرالدین میرے عقائد سے اختلاف رکھتے ہیں۔پس ایسی صورت میں وہ مینہہ سے بھاگ کر پرنالہ کے نیچے کھڑے ہوگئے۔بھلا کسی فروعی اختلاف کا ذکر فرماتے تو مقام سکوت ہوتا۔اب وہ مجھ سے عقائد کا اختلاف رکھتے ہیں اور اپنے عقائد پر مضبوطی سے قائم ہیں اس لیے میرا ان سے کیا تعلق اور میری جماعت کا ان سے کیا علاقہ۔