ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 64 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 64

کے بانیان مسجد اور ان کی اولاد اوراولاد در اولاد کے واسطے بہت دعائیں کیں۔ایسی دعائیں کیں کہ فرمایا کہ میں یقین کرتا ہوں کہ میری وہ دعائیں عرش تک پہنچ گئیں۔حضرت نے اس مسجد کی خوشی کااظہار واپسی پر قادیان کے پہلے درس میں بھی کیا۔مسجد میں نماز پڑھنے کے بعد حضرت نے ایک مختصر سی تقریر کی جو ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے مجھے لکھ کر دی تھی اور وہ درج ذیل ہے۔چھوٹی بات سے بڑی بن جاتی ہے ہمیشہ کوشش کرو کہ اختلاف نہ ہو۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ہر ایک بات میں اتفاق اور وحدت کا رنگ رکھا ہے۔پیمبر صاحب نے ہر ایک بات میں چاہا ہے کہ ہم ایک ہوں۔آج اگر مسلمان ایک ہوتے تو کوئی قوم مقابلہ نہ کرسکتی۔ (الانعام : ۴۵) ( المائدۃ : ۱۵)قرآن کو جب چھوڑا۔عداوت اور بغض آگیا۔اسی طرح یہود تباہ ہوئے اسی سے مسلمان تباہ ہورہے ہیں۔جب اٹکل بازیوں پر بات آگئی تو سب کے خیالات جدا۔اس لئے خدا، بہشت، دوزخ وغیرہ سب جدا، نیوفیشن کے لوگ پرانے لوگوں کو اولڈ فیشن کہتے ہیں وہ ان کو ملحد کہتے ہیں۔جھگڑے کی بناء قرآن کو چھوڑنا ہی ہے۔منجملہ ان باتوں کے جو ایک کرنے والی ہیں۔نماز، فرائض، خدا کو ماننا سب میں اب تک اتحاد ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا۔اپنی صفوں کو تم سیدھی کرو۔اگر تمہاری صفیں ٹیڑھی ہوں گی تو تمہارے دل بھی ٹیڑھے ہوں گے۔اس لئے صفوں کوسیدھا کرنے کی ہمیشہ کوشش کرو۔یہ مسجد مجھے بہت پیاری معلوم ہوئی ہے جب میںاس مسجد میں آیا ہوں مجھے دعا کی بڑی تحریک ہوئی ہے۔بنانے والوں کی نسبت مجھے بہت راحت ہوئی ہے صف بندی کا فکر چاہیے۔چھوٹی باتوں سے بڑی بات بن جاتی ہے اللہ تعالیٰ تم کو اتفاق کی توفیق دے۔میں خد اکی تحریک سے کھڑا ہواتھا بناوٹ سے نہیں کھڑا ہوا۔(ماخوذ از کلام امیرضمیمہ البدر جلد ۱۱ نمبر ۳۷ مورخہ ۲۷؍ جون ۱۹۱۲ء صفحہ ۳،۴)