ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 63
پیشوں میں دخل میعاد اور فن طبابت ۱۱ ؍<mark>جو</mark>ن ۱۹۱۲ء ساڑھے گیارہ بجے ایک مریض سے فرمایا کہ ہر پیشہ میںمیعاد کو دخل ہے۔ایک معمار کہہ سکتا ہے کہ میںمکان اتنے دنوں میں طیار کردوں گا ایک کلرک کہہ سکتا ہے کہ میںاتنے دنوں میں <mark>اس</mark> رجسٹر کی خانہ پُری کردوں گا۔ایک درزی کہہ سکتا ہے کہ میں اتنے دنوں میں کپڑا سی کر تیار کردوں گا۔لیکن ایک طبیب یہ نہیںکہہ سکتا کہ میں اتنے دنوں میں مرض کو اچھا کر دوں گا۔ہاں جاہل طبیب ایسا کہہ دیتے ہیں لیکن جس قدر اعلیٰ درجہ کا طبیب ہو گا <mark>اس</mark>ی قدر <mark>اس</mark> قسم کے دعویٰ سے ڈرے گا۔ہم شوقین بھی اتنے ہیں کہ چین سے بھی دوائیاں منگوا لیتے ہیں اور محتاط بھی <mark>اس</mark> قدر ہیں کہ بعض وہ دوائیاں <mark>جو</mark> بڑی محنتوں اور صرف زر کثیر کے بعد میسر ہوئیں ان کو آج تک کسی مریض پر تجربہ نہیں کیا۔صرف <mark>اس</mark> لئے کہ کوئی طبیب ایسانہیں ملا <mark>جو</mark> ان کے متعلق کوئی اپنا ذاتی تجربہ اور طریق <mark>اس</mark>تعمال بیان کرسکے۔بوٹیاں اور ایسی دوائیاں <mark>جو</mark> سہل الوصول نہ ہوں ہم کبھی <mark>اس</mark>تعمال نہیں کرتے۔(اکبر ) سفر لاہور کے دوران احباب کی دعوتیں حضرت خلیفۃ المسیح بمعہ خدام یوم السبت ۱۵ ؍<mark>جو</mark>ن ۱۹۱۲ ء دس بجے دن کے لاہور پہنچے۔کھانے پینے اور رہائش کا انتظام تشفی آمیز تھا۔ملک غلام محمد صاحب نے حضرت صاحب کی دعوت کرنی چاہی۔فرمایا۔کل علی الصبح <mark>جو</mark>ار (مکئی ) کی چھوٹی سی روٹی اور چائے آپ پلا دیں۔ملک صاحب نے <mark>اس</mark> کی تعمیل کی ایسا ہی قاضی حبیب اللہ کی درخو<mark>اس</mark>ت دعوت پر ان سے شام کے وقت چائے پی۔تعمیر مسجد پراظہار مسرت اور تقریر لاہور پہنچ کر سب سے پہلی بات <mark>جو</mark> حضرت خلیفۃ المسیح کو خوش کرنے والی ہوئی وہ مسجد احمدیہ ہے <mark>جو</mark> احمدیہ بلڈنگس کے وسط میں بنی ہوئی ہے۔حضرت سب سے اوّل مسجد میں داخل ہوئے دو نفل نماز ادا کر