ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 62
صلی اللہ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چل کر وہاں اس کا اعلان کردوں گا کہ یہ لوگ میرے ساتھ نہیںآئے۔آپ نے یہاں تک فرمایا کہ میری بیوی جاتی ہے۔میں اس کو بھی دوسرے مکان میں ٹھہراؤں گا اور میںجائز نہیں رکھتا کہ وہ بن بلائے ان کی مہمان ہو۔پھر یہ بھی فرمایا کہ اگر میرے اختیارات میں ہوتا تو میں تم سب کو ساتھ لے جاتا۔حضرت خلیفۃ المسیح نے سفر ملتان سے واپس آکر پوچھا تھا کہ تم کیوں نہیں گئے تھے اور مجھ سے کیوں نہیں پوچھا تھا؟ اس بناء پر میں نے حضرت سے اس سفر میں ہمرکاب ہونے کی اجازت چاہی جو آپ نے عطا فرمائی اور ساتھ ہی دوسرے موقع پر ایک اور شخص کے اجازت مانگنے پر فرمایا کہ میں نے صرف ایک شخص کو اجازت دی ہے اور میں اس کا خرچ اپنی جیب سے دوں گا۔عورتوں میں تبلیغ ۱۶ ؍ جون ۱۹۱۲ء کی صبح کو بعد نماز فجر حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا کہ صاحبزادہ صاحب احمدی جماعت کا خاص جلسہ کرکے ایک تقریر ضرور کریں۔چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح کے ارشاد اور حکم سے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب نے ۹ بجے دن کے احمدیہ مسجد میں ایک تقریر فرمائی۔ایڈیٹر زمیندار کی پسندیدگی کا اظہار ایڈیٹر زمیندار نے آپ کی تقریر کے متعلق پسندیدگی کا اظہار کیا اور کہا کہ غیراحمدی مسلمانوں کے پیچھے نماز پڑھنے کا مسئلہ صاف کردیا جاوے جس پر آپ نے فرمایا کہ تم نے کبھی کوئی جماعت نہیں بنائی؟ (الحکم جلد۱۶ نمبر۲۲،۲۳ مورخہ۲۱،۲۸؍ جون ۱۹۱۲ء صفحہ ۱۰ تا ۱۳)