ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 61 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 61

مسیح موعود ؑ کے ایک وعدہ کا ایفاء مجھے(ایڈیٹر الحکم) ایک واقعہ یاد ہے۔میرے عزیز مبارک سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دعا کا وعدہ کیا تھا جس مقصد کے لیے دعا چاہی تھی اس سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وصال ہوگیا۔اس پر حضرت خلیفۃ المسیح کو وہ وعدہ تحریری یاد دلایا گیا۔حضرت خلیفۃ المسیح نے اس پر اس قدر دعا کی کہ وہ مقصد پورا ہوگیا مگر ساتھ ہی فرمایا کہ یہ ایک ابتلا تھا۔وہ جوش جو حضرت مسیح موعود میں تھا اور جس رنگ میں وہ دعا کرتے وہ ایک الگ چیز تھی۔اب مجھے اس کام کو کرنا پڑا۔یہ خدا ہی کے خاص فضل سے ہوا۔( ماخوذ از’’ لاہور میں حضرت خلیفۃ المسیح کے ہاتھ سے بنیادی پتھر ‘‘الحکم جلد۱۶ نمبر۲۰،۲۱ مؤرخہ۷،۱۴؍ جون ۱۹۱۲ء صفحہ۱۱) حضرت خلیفۃ المسیح مَدَّ ظِلُّہُ الْعَالِیْ کا سفر لاہور حضرت خلیفۃ المسیح ۱۵؍ جون۱۹۱۲ء کو لاہور کی طرف روانہ ہوئے۔اس سفر کی غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک وعدہ کا ایفاء تھا جو آپؐ نے اپنے ایک خادم شیخ رحمت اللہ صاحب سے کیا تھا۔اس غرض کے ساتھ آپ نے یہ نیت بھی کی تھی کہ لاہور میں اپنی جماعت کو خصوصیت سے نصیحت فرمائیں گے اور بعض امور میں جو اختلاف ہوجاتا ہے اس کو مٹانے کی للہی کوشش کریں گے اور اگر موقع ملا تو تبلیغ حق بھی کریں۔ان پاک اغراض کو لے کر آپ نے اس شدت گرما اور ضعف وعلالت میں لاہور کا سفر گوارا کیا۔یہ ایک عملی تعلیم تھی قوم کے لیے استقلال، ہمت، عزم صحیح اور تبلیغ حق اور عام نفع رسانی کے لیے سچا جوش پیدا کرنے کی۔روانگی سے پہلے خدام قادیان کو آپؓ کی نصیحت چونکہ شیخ صاحب نے چند مخصوص دوستوں کو مدعو کیا تھا اس لیے حضرت خلیفۃ المسیح کو اپنی جماعت کو نصیحت کرنی پڑی کہ کوئی شخص لاہور میرے ساتھ نہ جاوے۔واِلّا میں وہاں پہنچ کر اپنے سیدو مولا آقا نبی کریم