ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 60 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 60

حضرت علیؓ کی انصاف پسندی فرمایا۔لکھا ہے کہ حضرت علیؓ اور ایک یہودی کا آپس میں مقدمہ تھا جوحضرت عمرؓ کے پاس دائر ہوا۔حضرت عمرؓ نے حضرت علیؓ کو فرمایا کہ ابوالحسن اٹھو اور بیان دو۔غرضیکہ وہ اٹھے اور انہوں نے بیان دیا۔جب فیصلہ ہوچکا تو حضرت عمرؓ نے حضرت علی کو پوچھا کہ آپ کو برا تو نہیں لگا۔آپ نے فرمایا کہ ہاں برا تو لگا ہے۔حضرت عمرؓ نے خیال کیا کہ شاید کھڑا ہونے کو برا مانا ہے۔مگر حضرت علیؓ نے جواب دیا کہ مجھے یہ برا لگا ہے کہ آپ نے مجھے تو ابوالحسن کرکے پکارا اور اعزاز دیا اور میرے مدعی کو یہودی نام لے کر پکارا۔یہ عدل نہیں ہے۔عیسائیوں کے مقابل ایک دلیل فرمایا۔ (الانعام:۱۰۲)یعنی کس طرح ہوسکتا ہے اللہ کا بیٹا جبکہ اس کی کوئی بیوی نہیں ہے۔یہ ایک دلیل ہے عیسائیوں کے مقابل پر۔کیونکہ عیسائی مریم کو خدا کی جورو نہیں مانتے اور بیٹے کے لیے ضروری ہے کہ وہ نتیجہ ہو دو چیزوں کا۔ایک ابا جی ہوں اور ایک اماں جی۔جب تم مریم کو بیوی نہیں مانتے تو بیٹا جو ان دونوں کا نتیجہ ہوتا ہے کس طرح پیدا ہوسکتا ہے۔جس طرح ایک کیڑا ہوتا ہے جب دوسرا وجود اس کے اثر کو جذب کرنے والا ہو تب مرض پیدا ہوسکتا ہے۔ایک طرف تعدیہ ہو اور دوسری طرف انفعال ہو تب کچھ نتیجہ پیداہوسکتا ہے۔سید عبدالقادر جیلانی ؒ بلحاظ تصنیف ۲۷؍ مارچ ۱۹۱۲ء۔فرمایا۔سید عبدالقادر جیلانی ؒ بلحاظ تصنیف کے میں کہہ سکتا ہوں کہ بڑے عظیم الشان آدمی تھے۔اوروں کے کلام تو سمجھ میں ہی مشکل سے آتے ہیں۔میرا منشاء تھا کہ ’’فصوص الحکم‘‘ تم کو (مخاطبین مولوی محمد اسماعیل صاحب اور دیگر چند شاگردان حضرت خلیفۃ المسیح تھے) پڑھاؤں مگر وہ مجلس میں پڑھانے کے لائق نہیں ہے۔(البدر جلد۱۱ نمبر۳۴ مورخہ ۶؍ جون ۱۹۱۲ء صفحہ۲،۳)