ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 506
اور ایک عجیب بات یہ ہے کہ ابتدائے قرآن کریم میں یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ کے ساتھ اعمال یا ارکان اسلام کی تعلیم ہے۔یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وغیرہ الآخر اس سے صاف ثابت ہے کہ جود ایمان بدوں اعمال اور اقرار لسان کامل نہیں ہے۔اَ لْاِیْمَانُ یَزِیْدُ وَ یَنْقُصُ ان امور کے بیان کے بعد اب پھر اَ لْاِیْمَانُ یَزِیْدُ وَ یَنْقُصُ کے مسئلہ پر کچھ بحث کی جاتی ہے۔بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن مجید کی آیات کو پیش کیا ہے۔پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے قول (البقرۃ :۲۶۱) سے ظاہر کیا ہے کہ ایمان ترقی کرتا ہے کیونکہ انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا تو ایمان نہیں رکھتا۔فرمایا کہ ایمان تو رکھتا ہوں مگر میں اطمینان کے درجہ پر ترقی کرنا چاہتا ہوں۔پھر معاذ کا قول بھی اس کا مؤید ہے کیونکہ اس نے جو کہا کہ تھوڑی دیر ہمارے پاس بیٹھو تا کہ مومن ہوجائیں۔مومن تو پہلے ہی وہ تھے۔مراد یہی ہے کہ ایمان بڑھائیں۔عدی ابن عدی کا مکتوب بھی ایمان کے مراتب بتاتا ہے۔کوئی شخص گویا مومن کامل نہیں ہوتا جب تک ایمان کے حدود، فرائض، شرائع اور سنن کی تکمیل نہ کرے۔یہاں ہی اس امر کا ذکر بھی کردینا ضروری ہے کہ شِرْعَۃٌ اور مِنْہَاجٌ کے معنے بتادئیے گئے ہیں۔شِرْعَۃٌسے قواعد و حدود شریعت اور منہاج سے مراد سنت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ایمان کی کمی بیشی کا مسئلہ بہت صاف ہوچکا ہے تاہم مزید تصریح کے لئے میں چند دلائل اور پیش کرتا ہوں۔اوّل۔ایمان علم اور تصدیق کا مجموعہ ہے اور علم اور تصدیق کے مدارج مختلف ہوتے ہیں۔بعض میں یہ بات زیادہ قوی، زیادہ پختہ اور شک و ریب سے بالکل دور ہوتی ہے اور یہ ایک ایسا امر ہے کہ ہم اپنے ذاتی تجربہ سے مشہودات میں محسوس کرتے ہیں۔ایک ہی چیز کو مختلف آدمی دیکھتے ہیں یا ایک آواز کو سنتے ہیں یا ایک خوشبو کو سونگھتے ہیں یا ایک ہی طعام کو چکھتے ہیں مگر ان میں فرق ہوتا ہے۔پھر کوئی وجہ نہیں کہ قلبی معرفت اور قلبی تصدیق میں مدارج نہ ہوں۔خود کلام اللہ