ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 505 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 505

دعائیںx کرنا، استغفارy کرنا، ذکر کرzنا اور لغو کو ترک{ کرنا۔اعمال میں اس کا ظہور یوں ہوتا ہے۔وضو کرuنا اور بدن کو پاک رکھنا، نماز vپڑھنا، صدقہw دینا، روزہ xرکھنا۔حجy اور اعتکافz کرنا اور ہجرت{ کرنا۔پھر وفاu بالنذر ، ستر عورتv (شرمگاہ کو ڈھانپنا)، کفارہw کا ادا کرنا، قرباxنی کرنا، جنازyہ کی نماز ، ادا قرضz۔پھر صدق uمعاملات، سود چھوڑvدینا، ادائےw شہادت، کتمان xشہادت کو چھوڑنا، بدکارyیوں سے بچنا، اہل وz عیال اور خدام کے حقوق کی نگہداشت، والدین {سے حسن سلوک، اولاد|کی تربیت اور صلہ رحمی} کرنا اور احکام کیt uاطاعت، اصلا uuح کے کاموں میں شریک ہونا، خواہ لڑائی کے ذریعہ اصلاح ہو، اس ضمن کے ماتحت قیام uحکومت، (اولو الامرv) حکومت کی فرمانبرداری، جماعت wکی اتباع، تعاون xعلی البر، امر معرyوف، نہی عنz المنکر، حدود{ کا قائم کرنا، جہاد |(سعی فی الدین)، امانتوں} کا ادا کرنا، پڑوسیوںt u کا اکرام، حسن uuمعاملہ، نیک کاموuvں میں چندہ دینا، فضولیوuwں کو چھوڑدینا، السلاx uمعلیکم اور چھینک کا جواب دینا، بے ہودہy uباتوں کو چھوڑنا اور راستوں کو صاف کرنا۔یہ ایمان کی تصریح ہے۔پھر فرمایا کہ ایمان کے لئے کچھ فرائض ہیں، کچھ حدود ہیں، کچھ شرائع ہیں اور کچھ سنن ہیں۔ان امور کی تفصیل بھی اوپر گزر چکی ہے کیونکہ کچھ ابتدائی باتیں ہوتی ہیں جن کو شرائع کہتے ہیں اور حدود سیاسی امور اور تعزیرات سے تعلق رکھتے ہیں۔فرائض نماز وغیرہ امور کی تفصیل بھی آچکی ہے۔غرض ایمان ارادہ قلب اور افعال جوارح پر اطلاق پاتا ہے۔یہ بالکل سچ ہے کہ تکمیل ایمان اعمال صالحہ کے بدوں نہیں ہوسکتی اور ایمان کامل بالطبع اعمال صالحہ کے صدور کو چاہتا ہے۔قرآن مجید میںجہاں اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فرمایا وہاں عَمِلُواالصّٰلِحٰتِ کی قید بھی ساتھ ہی ہے