ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 507
کے معانی کے فہم میں کتنا فرق ہوتا ہے۔اسی اعتبار سے ایمان میں بھی فرق ہوتا ہے اور یہ اس کی کمی بیشی پر ایک بیّن دلیل ہے۔دوم۔اعمال القلوب مثلاً اللہ کی محبت ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت، خشیۃ اللہ ، رجاء وغیرہ سب ایمان ہیں جیسا کہ اوپر تفصیل کی ہے۔اور یہ ظاہر بات ہے کہ لوگ ان میں ایک دوسرے سے متفاضل ہوتے ہیں اور یہ ثبوت ہے ایمان کی کمی بیشی کا۔سوم۔اعمال ظاہری میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔چہارم۔انسان جو مَا لِرَبِّہٖ کو یاد رکھے اور ہر وقت انہیں زیر نظر رکھے وہ اس سے کامل ہے جو تصدیق تو کردے مگر پھر ان سے غافل ہوجاوے کیونکہ غفلت ایمان کو گھٹا دیتی ہے اور ایمان، تصدیق، ذکر اور استحضار کا کمال علم و یقین کے کمال کا موجب ہے۔پنجم۔جو تصدیق جو عمل کی تحریک کرے اس سے ضرور افضل ہے جس سے عمل کی قوت پیدا نہ ہو یا یوں کہو کہ ایسا ایمان جس کا ثمرہ اعمال صالحہ ہوں اس ایمان سے ضرور افضل ہے جس کا ثمرہ اعمال صالحہ نہ ہوں۔تو کیا اس سے ظاہر نہیں کہ ایمان کے مدارج ہیں۔ان بدیہی باتوں پر اگر نظر نہ بھی کی جاوے تو بھی قرآن مجید نے اس مسئلہ کو خوب کھول کر بیان کردیا ہے اور بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن مجید سے متعدد آیات پیش کی ہیں۔ان کے علاوہ ذیل کی آیات بھی اس کی موید بحق ہیں۔۱۔(الانفال :۳)۔یہ ایک ایسی بات ہے جس کو ہر شخص مومن جبکہ اس پر قرآن مجید کی آیات تلاوت کی جاویں محسوس کرتا ہے یعنی قرآن مجید کے فہم اور اس کے معانی کی معرفت سے ایک خاص قسم کا ایمان ( جو پہلے نہ تھا) اس کے قلب میں پیدا ہوتا ہے اور بڑھتا ہے۔امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا ڈیفنس حنفی لوگوں کا مذہب ہے کہ ایمان گھٹتا بڑھتا نہیں۔