ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 498 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 498

دوسرے الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ قرآن کریم اسلام کا قانون اساسی ہے اور اس کی مقدس تعلیمات کسی دوسرے مجموعہ کی محتاج نہیں ہیں لیکن جس طرح پر قانون اساسی کے ساتھ ثانوی (بائی لاز) ہوتے ہیں اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ملفوظات و ہدایات وہی بائی لاز ہیں۔اس لئے اس کی سخت ضرورت ہے۔اس سے قرآن مجید کی شان بلند نظر آتی ہے نہ کچھ اور۔اگر صرف اتنا ہی مان لیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں محض وحی الٰہی کے پہنچانے کا ایک آلہ تھے تو پھر قرآن مجید نے یہ کیوں کہا؟ (الاحزاب :۲۲) اور (ال عمران :۳۲) اور آپ کو ایک جدید شریعت کی بنیاد رکھنے اور اسلامی تمدن کے اجراء کی کیا ضرورت تھی؟ آپ کی عملی زندگی بتاتی ہے کہ آپ قرآن مجید کی تلاوت، تزکیہ اور تعلیم الکتاب و الحکمۃ کے فرائض لے کر آئے تھے۔اس لئے ضروری تھا کہ آپ کی تعلیمات اور آپ کی عملی زندگی ایک مسلمان کی زندگی کا علمی اور عملی ضابطہ ہوتا اور اس کے فہم کے لئے علم الحدیث کی ضرورت ہے۔فلسفہ حدیث اور فلسفہ تاریخ اس زمانہ میں تاریخ ایک عظیم الشان علم ہے اور یورپ اور متمدن قومیں فلسفہ تاریخ کو اپنے لئے خضر راہ سمجھتی ہیں مگر تعجب کی بات ہے کہ نو تعلیم یافتہ لوگ باوجود فلسفہ تاریخ کے شیدا ہونے کے علم حدیث سے متنفر پائے جاتے ہیں اور خود یورپ کے پادری احادیث پر اعتراض کرتے ہوئے ذرا نہیں شرماتے۔مدبرین یورپ کے ملفوظات و تعلیمات کو جوان کی سیرتوں میںملتے ہیں وہ قطعاً نہیں جھٹلاتے لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ملفوظات و عملیات پر آتے ہیں تو خبر کے جھوٹ اور سچ کے احتمال کا قضیہ نکال بیٹھتے ہیں۔انصاف اور شرافت ہو تو محدثین کے فلسفہ کے سامنے سر جھکا دیں۔علم اسماء الرجال اور علم الدرایت کے ماہرین نے کچھ ایسے تنقیدی اصول قائم کئے ہیں کہ یورپ اس فن میں ابھی ابجد خواں کہا جاتا ہے۔