ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 497 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 497

طرح پر صحابہؓ ایک خاص شوق سے اس کو حفظ کرتے تھے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج تیرہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی قرآن مجید کی ترتیب میں کوئی اختلاف نہیں ہے اور روئے زمین کے مسلمان اس پر متفق ہیں۔غرض اس بے نظیر قوت حافظہ، اس بے نظیر شوق تحفظ اقوال نبی، ان بے نظیر خصائص قومی نے مل ملا کر حضور انورؐ کے اقوال کے مجموعہ کو محفوظ رکھا اور ہم تک پہنچادیا۔اس میں شک نہیں کہ بعض ناعاقبت اندیش اور بے باک لوگوں نے اسلامی حکومت کی بعض پولیٹیکل پیچیدگیوں اور خانہ جنگیوں کے زمانہ میں کوشش کی کہ موضوعات کے ذریعہ اس پاک ذخیرہ کو مشکوک کردیں مگر جس طرح پر جواہرات میں ٹھیکریاں الگ پہچانی جاتی ہیں حضرت سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اور کلمات طیبات صاف نمایاں نظر آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے علم حدیث کی حفاظت اور شناخت کے لئے ایسے علوم پیدا کردئیے کہ اس حریم قدس میں کسی نااہل کا گزر نہیں ہوسکتا۔رفع اعتراض بعض لوگ اپنی نادانی اور جہالت سے کہہ دیتے ہیں کہ جبکہ قرآن مجید ایک مکمل اور جامع قانون ہے پھر احادیث کی کیا ضرورت ہے؟ ایسے لوگ حقائق سے ناواقف اور سطحی خیالات رکھتے ہیں۔انہیں معلوم نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت محض ایک آلہء وحی کے رنگ میں نہیں ہوئی بلکہ قرآن مجید خود بتاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے اغراض کیا تھے؟ (الجمعۃ :۳) کتاب اللہ کی تلاوت اور تزکیہ قوم اور تعلیم الکتاب و الحکمۃ آپ کی زندگی اور بعثت کے اغراض تھے جن سے پایا جاتا ہے کہ آپ کی ذات مبارک کو ایک مقنّن قانون اور قرآن مجید کے عملی معلم کا منصب دیا گیا تھا۔جیسے دنیا میں کوئی قانون بدوں ضابطہ کے نہیں ہوسکتا اسی طرح قرآن کریم اگر ایک قانون ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی اور فعلی زندگی اس کا ضابطہ ہے۔