ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 499
علم الحدیث علم الحدیث پر میں اس مقدمہ میں تفصیلی بحث نہیں کرسکتا۔تاہم میرا خیال ہے کہ مجھے جسۃ جسۃ ایسے امور بیان کردینے چاہییں جو اس علم کے مبتدی کے لئے بہت بڑی کتابیں پڑھنے کے بغیر آسکیں۔علم الحدیث کے متعلق میں یہاں ایک مختصر سی بحث کردیتا ہوں۔علم الحدیث کی دو بڑی قسمیں ہیں۔اوّل علم الروایت۔دوم علم الدرایت۔اوّل الذکر میں سلسلہ روایت اور ضبط حدیث سے بحث ہوگی اور دوسری میں حدیث کے مطلب اور منشاء سے۔پھر یہ دونوں قسمیں بارہ مختلف شاخوں پر منقسم ہیں۔۱۔تدوین علم الحدیث۔۲۔علم الناسخ و المنسوخ۔۳۔علم النظر فی الاسناد۔۴۔علم کیفیت الروایت۔۵۔علم الفاظ الحدیث۔اسی علم کے نیچے روایت بالمعنی بھی آتی ہے۔۶۔علم المؤتلف والمختلف۔۷۔علم طبقات حدیث۔۸۔علم غریب الحدیث۔۹۔علم اسماء الرجال۔۱۰۔علم الجرح والتعدیل۔۱۱۔علم طرق الاحادیث۔۱۲۔علم الموضوعات۔ان علوم پر محدثین نے مستقل کتابیں لکھی ہیں اور علم الحدیث کے وہ کار ہائے نمایاں کئے ہیں کہ یورپ کے فلسفہ تاریخ اور فلسفہ روایت کو اس کی ہوا بھی نہیں لگی۔اس تقسیم علم الحدیث کے بعد مجھے تدوین احادیث پر کچھ کہنا ضروری ہے۔تدوین احادیث میں اوپر لکھ آیا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زما نہ میں احادیث کی کتابت کی ممانعت تھی اور صرف قرآن مجید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سامنے لکھواتے تھے چونکہ آپ نے قرآن مجید کے سوا احادیث کی کتابت کی مخالفت کردی تھی اس لئے یہ سچی بات ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں احادیث کی تدوین اور کتابت نہیں ہوئی لیکن اس سے میری مراد یہ ہے کہ احادیث کی کتابت ایک مرتب اور مدون کتاب کی صورت میں نہیں ہوئی۔وَ اِلاَّ کیا یہ امر واقعہ نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو خطوط شاہان وقت کے نام