ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 492 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 492

آپ بحیثیت ایک مامور ، مرسل ، ہادی اور مزکی کے ظاہر ہوئے اسی پہلی زندگی کا ایک ارتقائی نقشہ تھا اور وہ بیج جو آپ کی سرشت اور فطرت میں پہلے سے بویا گیا تھا وہی بارآور ہوا تھا۔اس لئے آپ کے تمام حالات کو ہم محفوظ اور منضبط لکھنے کا ناقابل شکست دعویٰ کرتے ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ایک لا نظیر فخر حاصل ہے کہ دیگر ہادیان مذاہب کے مقابلہ میں آپ کی زندگی کے ادنیٰ سے ادنیٰ واقعات اور حالات محفوظ ملتے ہیں اور آپ کی پرائیویٹ (اندرون خانہ) اور پبلک لائف کا کوئی واقعہ نہیں جو محفوظ موجود نہ ہو یہ کیوں ہوا؟ اس کا جواب صاف اور لاجواب الفاظ میں یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو نوع انسان کے لئے بطور ایک نمونہ و آئیڈیل کے بھیجا تھا۔آپ کی زندگی ایک اسوہ حسنہ تھی اس لئے یہ لازمی اور ضروری امر تھا کہ آپ کے وقائع زندگی محفوظ اور مصئون ہوتے۔قبل نبوت کے حالات زندگی کی حفاظت اور عصمت پر ایک اور بھی دلیل قاطع ہمارے ہاتھ میں ہے جوخود قرآن مجید نے بیان کی ہے اور وہ یہ ہے  (یونس :۱۷) میں نے تمہارے اندر چالیس سال کا ایک لمبا زمانہ گزارا ہے۔میری عفت و دیانت و امانت وصداقت پر تم سب کے سب گواہ ہو اور ایک بھی نہیں جو میری پاکیزہ اور معصوم زندگی پر حرف رکھ سکے۔یہ دعویٰ عرب جیسی اکھڑ ، دلیر اور معائب کو علیٰ رؤس الاشہاد بیان کردینے میں نہ جھجکنے والی قوم کے سامنے اس حالت میں کیا گیا جبکہ ان کی مالوف ترین چیز مذہب کو ان کے دل سے چھیننے کا اعلان کیا تھا لیکن اس تحدی اور علی الاعلان چیلنج کی تردید کے لئے کسی زبان ، ہاتھ اور قلم کو جنبش نہیں ہوتی اور آج تیرہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی عرب جاہلیت کی پرانی تاریخوں، ان کے واقعات اور اشعار میں ایک بھی جملہ نہیں ملتا جو اس عدیم النظیر تحدی کو توڑ سکے۔آپ کی خطرناک مخالفت کے حالات ہمارے سامنے ہیں اور وہ تاریخ دنیا سے نابود نہیں ہوگئی مگر ان تاریخوں کو پڑھ جائو تمہیں ایک بھی جملہ اور ایک بھی کلمہ نہیں ملے گا جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی لائف پر