ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 493
نکتہ چینی کا موقع مل سکے۔یہ فخر اور بجا فخر بے نظیر فخر صرف سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو حاصل ہے کہ آپؐ کی زندگی کے تمام واقعات محفوظ ہیں۔آپ کے کیریکٹر کی قوت اور شوکت کا اس سے پتہ لگتا ہے کہ آپ نے اپنی پرائیویٹ زندگی کے واقعات کو بھی پبلک کرنے میں کبھی مضائقہ نہیں فرمایا۔حدیث دلآویز اور ذکر محبوب درازی سخن کی طرف لے جانا چاہتا ہے لیکن اس انٹروڈکشن کی حالت اس طوالت کی متحمل نہیں ہوسکتی۔اللہ تعالیٰ نے چاہا اور توفیق دی تو ارادہ ہے کہ سیرت نبوی میں ان پہلوؤں پر بحث کروں اور اگر زندگی نے وفا نہ کی اور قدرت نے اس کو کسی دوسرے کے لئے رکھا تو بھی میں اس پاک خواہش کے لئے خدا کے فضل سے ثواب سے محروم نہ ہوں گا۔الغرض وہ تمدن اسلامی جو اپنی خوبی اور خوشنمائی کے لحاظ سے ہر زمانہ میں دلچسپی کا موجب رہا ہے۔اس کا حقیقی چشمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہے اور آپ کا ایک ایک فعل ایک ایک لفظ انسانی زندگی کے لئے زبردست قانون اور ناقابل خطا رہنما ہے۔اسی قانون اور ہدایت نامہ کی اس کتاب کی ایک معمولی شرح کا یہ مقدمہ ہے۔اس اسلامی تمدن اور اسلامی ضابطہ کا پورا حال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات طیبات یا احادیث میں ملتا ہے۔کیوں کر ایک انسان حیوان سے انسان اور انسان سے بااخلاق انسان اور پھر باخدا انسان بن سکتا ہے اور کس طرح پر قوم بنتی اور بگڑتی ہے۔ان اسباب اور ذرائع کا پتہ تمہیں اسی پاک دفتر میں ملے گا۔بقائے نفس اور حفظ نوع انسان کے لئے کن امور کی ضرورت ہے۔اس کے لئے تمہیں احادیث ہی کے پڑھنے کی حاجت ہے۔اخلاقی اور روحانی قوتیں کیونکر نشو و نما پاتی ہیں؟ ان اسباب کی حقیقت کا راز بھی اسی دفتر میں مدفون ہے۔غرض انسان کے پیدا ہونے سے لے کر اس دنیا سے رخصت ہونے تک کے لئے جن امور کی ضرورت اسے ہے اور ما بعد دنیا کے لئے جو اسے مطلوب ہے ان تمام امور کو اس صحیفہ میں رکھ دیا ہے اور مختصر اور جامع الفاظ میں یہ کہہ دینا درست ہے کہ اسلامی تمدن و تہذیب کی تاریخ احادیث میں مرکوز ہے۔