ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 491 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 491

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تمہارے لئے ایک نمونہ ہے۔اب اسی سے اسلامی تمدن کی بنیاد شروع ہوتی ہے۔اسلامی تمدن پر مغربی محققوں نے بڑی بڑی دلچسپ بحثیں اور عجیب عجیب موشگافیاں کی ہیں اور فی الحقیقت یہ ایک ایسا مضمون ہے کہ دنیا کے محقق اس پر غور کریں اور اسے اپنے لئے خضر راہ بنائیں۔اسلامی تمدن نے اپنا حیرت انگیز اثر دنیا پر ڈالا ہے۔دنیا کی تمام ترقی یافتہ قوموں کی تہذیب و شائستگی کو اپنی روشنی کے آگے ماند کردیا۔یہ تاریخ نہایت دلچسپ اورحیرت انگیز ہے مگر افسوس ہے کہ میں اس انٹروڈکشن میں اس کے مختلف پہلوؤں پر بحث کرنے کا موقع نہیں پاتا اگر چہ میرے دل میں جوش ہے۔تمدن اسلام کی پہلی اینٹ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود سے دنیا میں رکھی گئی اور آپ کی زندگی میں اس کا دائرہ عرب سے باہر پورے طور پر نہیں کھینچا گیا مگر خلافت راشدہ اور زمانہ ما بعد میں وہ ریگزار عربستان سے نکل کر اکناف عالم میں پھیل گیا اور اپنے اثر سے ان تمام قطعات عالم کو مؤثر کردیا۔یہ ایک حیرت افزا امر ہے کہ وہ قومیں جو اس وقت دنیا میں تہذیب و شائستگی کی ٹھیکیدار اور وہ ملک جو تمدن کے سر چشمہ بنے بیٹھے تھے اس تمدن کے سامنے سجدہ کرنے سے نہ رک سکے۔اس راز کا پتہ اور اس موج کا چشمہ جو مکہ سے اٹھی اور گنگا اور … تک پہنچی آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال اور صحابہ کرام کے آثار میں ملے گا اور ان کلمات طیبات کے پڑھنے سے معلوم ہوگا کہ آپ کی زندگی کا ہر لمحہ اور آپ کا ہر فعل و قول اپنے اندر ایک صداقت اور ہدایت پر رکھتا تھا اور فی الحقیقت ایسا ہی ہونا چاہیے تھا کیونکہ جو وجود دنیا میں بطور نمونہ اور آئیڈیل کے بھیجا گیا ہو جو سچی تہذیب اور حقیقی تمدن کی بنیاد رکھنے والا ہو۔اس کے افعال و اقوال میں کبھی کوئی بات ایسی نہیں ہوسکتی جو نوع انسان کی بہتری، بھلائی اور تربیت پر مشتمل نہ ہو۔ہم بڑی جرأت کے ساتھ یہ تسلیم کرنے کو تیار ہیں کہ ہر چند ایک خاص وقت تک آپ کے حالات آپ کے کلمات طیبات کے انضباط کا اہتمام نہیں کیا گیا یعنی زمانہ بعثت سے پہلے کے حالات کا لیکن یہ بھی ہم اس سے زیادہ دلیری کے ساتھ کہتے ہیں کہ آپؐ کی آئندہ زندگی جبکہ