ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 474 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 474

حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی آخری عمر میں ایک رات فرمایا کہ آج سے ایک سو سال تک اس وقت کا کوئی انسان روئے زمین پر زندہ نہ رہے گا۔آنحضرتؐ کے اصحاب میں سے سب سے آخر جو فوت ہوئے عمرو بن طفیل، عامر بن واثلہ صحابی تھے جو ۱۱۰ھ میں فوت ہوئے۔اس حدیث سے ظاہر ہے کہ خضر علیہ السلام یا تو … اصحاب کہف اب تک زندہ نہیں سب فوت ہوگئے ہیں۔باب ۴۲ بعض لوگوں نے کہا کہ ابوہریرہؓ بڑی حدیثیں سناتا رہتا ہے۔ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ ہمارے بھائی مہاجر بازاروں میں اپنی خرید و فروخت میں لگے رہتے ہیں اور انصار اپنے زمین کے کاروبار میں مصروف رہتے ہیں۔پھر ابوہریرہؓ روٹی کھا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چمٹا رہتا ہے تا کہ پیٹ بھر کر باتیں سنے اور ایسی جگہ پہنچتا ہے جہاں لوگ نہیں پہنچتے اور وہ باتیں یاد رکھتا ہے جن کو لوگ یاد نہیں رکھتے۔نکتہ ایک دفعہ میں نے حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ ایک دوکان ہے اور آپ اس کے مہتمم ہیں۔مجھے فرمایا کہ تم بھی آٹا لے لو۔تب آ پ نے آٹا تول کر مجھے دیا اور ڈنڈی کے سرے سے ترازو کے پلڑے کو جھاڑا۔میں نے عرض کی۔یا رسول اللہ ! آپ نے ابوہریرہ کو کوئی بات بتائی تھی جس سے اسے حدیثیںبہت یاد رہتی ہیں۔فرمایا۔ہاں بتلائی تھی۔میں نے عرض کی کہ مجھے بھی بتائیں۔فرمایا۔کان میں بتائیں گے۔میں نے کان آگے کیا اور آپ نے اپنا منہ قریب کیاہی تھا کہ مجھے ایک شخص نے نماز کے واسطے جگا دیا۔میں نے یہ خواب حضرت مرزا صاحب کو سنائی۔حضور نے فرمایا کہ جو جگانے والا تھا اس کے نام میں اس خواب کی تعبیر ہے۔جگانے والے کا نام نور الدین تھا۔مطلب یہ کہ دین کے نور بن جائو۔احادیث پر عمل کرو تو خود بخود یاد رہیں گی۔سو خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ مجھے اب حدیثوں کا اکثر حصہ یاد ہے۔