ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 473 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 473

مطابق ہونی تھی یا مخالف۔اگر خلاف ہے تو قابل وقعت نہیں۔اگر مطابق ہے تو وہ یہی ہے جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرما دی کہ حَسْبُنَا کِتَابَ اللّٰہِ۔اللہ تعالیٰ کی کتاب ہمارے لئے کافی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سمجھ لیا کہ عمرؓ نے میرا مطلب پا لیا ہے اب کچھ لکھنے کی ضرورت نہیں اور فرمایا کہ اب یہاں سے چلے جائو۔۲۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے بعد کچھ لکھوانا ضروری اور مناسب سمجھتے تو آپ لکھوا سکتے تھے۔آپ میں قوت تھی اور سب آپ کی بات مانتے تھے لیکن آپ نے کچھ نہ لکھوایا۔۳۔قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور لَنْ تَضِلُّوْا کا مطلب حل کردیا ہے۔(النساء : ۱۷۷)۔یہی لفظ  کے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے ہیں جس سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا منشاء یہی تھا کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کے متعلق تاکید کردیں۔۴۔حضرت عمرؓ کا قول قرآن شریف کی اس آیت کے مطابق بھی ہے۔(العنکبوت : ۵۲ )۔باب ۴۰ ایک رات آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جاگے اور فرمایا۔کیا کیا فتنے اترے اور کیا کیاخزانے کھلے۔حجرے والیوں کو جگائو۔بہت عورتیں دنیا میں کپڑے پہنے ہوئی ہیں مگر آخرت میں ننگی ہوں گی۔آپ پر آئندہ کے حالات منکشف ہوئے۔دیکھا کہ دولت تو بہت ہوگی مگر دولت کے ساتھ بدیاں آتی ہیں اور تکبر پھیلتا ہے اور فتنے بڑھتے ہیں اس لئے تاکید کی کہ ابھی سے راتوں کو اٹھ کر دعائیں کرو تا کہ آنے والے فتنوں سے اللہ تعالیٰ تمہیں اور تمہاری اولاد کو بچائے رکھے۔