ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 475 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 475

ابوہریرہ نے کہا کہ حدیثوں کا ایک حصہ ایسا ہے کہ میں اسے کسی کے سامنے بیان نہیں کرسکتا۔اگر کروں تو خوف ہے کہ لوگ میرا گلا کاٹ دیں۔معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بعض پیشگوئیوں میں ان لوگوں کے حالات بیان کئے ہیں جنہوں نے آپ کے بعد شرارتیں کیں یا ان کے نام لئے (جیسا کہ یزید)۔ابوہریرہ نے ایسی باتیں بیان نہ کیں یہ دعا کی تھی کہ ۶۰ھ سے پہلے مجھے موت ملے۔باب ۴۴ اگر کوئی کسی سے پوچھے کہ آپ سے علم میں بڑا کون ہے تو کہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔نکتہ بڑے بڑے مفسر چار ہیں۔۱۔حضرت علی مرتضیٰ ۲۔ابن عباس ۳۔ابن مسعود ۴۔ابن ابی بن کعب خضر خضر میرے نزدیک یہ ایک فرشتہ کا نام ہے اور یہ واقعہ حضرت موسیٰ کا معراج ہے اور جو واقعات دکھائے گئے وہ سب حضرت موسیٰ کی اپنی زندگی کے واقعات ہیں جیسے ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے تمام واقعات معراج میں بتائے گئے مگر حضرت موسیٰ اور خضر کا آگے نہ چلا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔خضر نے ایک ہزار معاملہ تجویز کیا تھا اور فرمایا۔پست موسیٰ است اور آپ کو بھی جبرائیل علیہ السلام اِنْطَلَقَ، اِنْطَلَقَ اسی واسطے فرماتے رہے۔باب ۴۷ اَلرُّوْحُ سے مراد کلام الٰہی ہے۔قرآن شریف میں اس آیت کے پہلے اور پیچھے کلام الٰہی کا ذکر ہے۔باب۴۸۔تیری قوم آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اے عائشہ اگر تیری قوم