ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 463 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 463

کہ ہر رقعہ پر مضمون سے قبل السلام علیکم لکھا کریں۔میاں صاحب کے رقعہ میں السلام نہ تھا۔صاحب قاموس مجد الدین فیروز آبادی آٹھویں صدی میں ہندوستان میں آئے وہ بھی اس امر کے شاکی تھے۔اَ لْاِنْصَافُ مِنْ نَّفْسِکَ۔یہ بھی ایمان کا ایک شعبہ ہے۔انسان اپنے جی میں آپ ہی انصاف کرے۔ایک دفعہ حضرت (مرزا صاحب) کے قریب کے مکان میںکسی شادی کی تقریب پر ایک رقاصہ منگوائی جو رات بھر ناچتی رہی۔حضرت کو خبر ہوئی۔آپ نے دریافت کیا کہ اس کو رات بھر کا کیا ملا ہے؟ معلوم ہوا صرف پانچ روپے۔صبح فرمایا کہ میں تو رات بھر شرمندہ ہی رہا کہ یہ پانچ روپے کے واسطے کتنی محنت کررہی ہے۔ہم اپنے اللہ تعالیٰ محسن مربی سے ہزار در ہزار لا تعداد و لا انتہا تحفے اور انعام پاکر اتنی محنت نہیں کرتے۔اسی طرح جب رات کو چوکیدار کی آواز سنتا ہوں تو شرمندہ ہوجاتا ہوں کہ چار پانچ روپے ماہانہ پا کر یہ رات بھر پہرہ دیتا ہے۔چھوٹی راتوں میںآرام نہیں کرتا۔سردی بارش کی پروا نہیں کرتا۔ہم اس کے بالمقابل کس قدر غافل سوتے ہیں۔انسان خود ہی اپنے دل میں انصاف کرے۔کیا کوئی اس کا مال ناجائز لے لے اس کی اولاد کو بد اخلاق بنائے اس کے ننگ و ناموس پر حملہ کرے اس کا نوکر عمدہ سے فرائض منصبی ادا نہ کرے کیا کوئی گوارا کرتا ہے۔تو یہ کس انصاف پر دوسرے میں بالباطل لیتا ہے کسی کی اولاد کو بد اخلاق بناتا ہے کسی کے ننگ و ناموس پر حملہ کرتا ہے اور اپنے فرائض منصبی کے ادا کرنے میں کمزور۔طبیب تو سب سے زیادہ ذمہ دار ہے۔تُطْعِمُ الطَّعَامَ۔معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص مہمان نواز نہ تھا اس واسطے اسے یہ تاکید کی گئی کہ کھانا کھلائو۔باب۲۱ کُفْرَانُ الْعَشِیْرِ۔جس طرح ایمان کے بہت سے شعبے ہیں اسی طرح کفر کے بھی بہت سے شعبے ہیں۔خاوند اپنی بی بی کی نا شکری کرے یا بی بی اپنے خاوند کی ناشکری کرے تو