ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 462
نکتہ امام بخاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ برخلاف اور لوگوں کے صحابہ کے مذہب کو بھی بیان کرتے ہیں۔تابعین ، تبع تابعین کے آثار کو بھی لیتے ہیں۔اس زمانہ کے محدثین ان باتوں سے محروم ہیں لیکن مجھ پر اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ فضل رہا ہے کہ میں بچپن سے ان باتوں کو لئے ہوئے ہوں۔دلیل اس کی یہ ہے کہ قرآن شریف میں آیا ہے۔ (التوبۃ : ۱۰۰)۔سابق اوّل مہاجر اور انصار اور وہ لوگ جو ان کے تابعین میں داخل ہیں اللہ تعالیٰ ان پر راضی ہو اور وہ اللہ سے راضی۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو لوگ ان کے پیرو تھے ان کا عمل درآمد بھی قابل اتباع ہے۔باب۱۹ عَلَی الْحَقِیْقَۃِ۔ایک لفظ جب تنہاء آتا ہے تو اس کے معنے عام ہوتے ہیں اور جب دوسرے الفاظ کے ساتھ مل کر آتا ہے تو اس کے معنے خاص ہوجاتے ہیں۔مثلاً مومن کا لفظ جب علیحدہ ہو تو اس کے معنے عام ہوتے ہیں اور جب عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ کے ساتھ ہو تو وہاں معنے خاص اور محدود ہوجاتے ہیں۔کبھی خلاف معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسا اعراب کو کہا کہ تم اپنے آپ کو مومن نہ کہو ہاں یہ کہو کہ مسلمان ہیں۔پھر فرمایا۔ (اٰل عمران : ۲۰)۔یہاں اسلام کا لفظ عام ہے۔ایمان اسلام پر حاوی ہے۔مجاز مجاز اور حقیقت ، فصاحت و بلاغت والوں کی اصطلاحات ہیں۔تیسری صدی اسلام تک مجاز کا لفظ اسلامی لٹریچر میں استعمال نہیں ہوا۔تیسری صدی کے آخر پر یہ لفظ خاص اصطلاح میں آیا۔باب۲۰ اِفْشَائُ السَّلَامِ۔ہندوستان میں سلام کا رواج بالکل نہیں۔بالخصوص امراء کو السلام علیکم کہا جاوے تو وہ برا مناتے ہیں۔اڈیٹر۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ مکرم میاں معراج الدین نے کسی بات کے دریافت کے واسطے ایک چھوٹا سا ایک دو سطر کا رقعہ حضرت مرزا صاحب مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں لکھا۔حضرت نے چند لفظوں میں اس کا جواب دیا مگر پہلے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ لکھا اور پھر لکھا