ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 461
دینی چاہی مگر قدرت خدا اس مقام کے بدلے قرآن شریف کا ایک اور مقام نکال کر دیا اور بشپ صاحب کو سمجھایا کہ (المائدۃ :۶۸) کا جو ترجمہ اس مولوی نے کیا ہے وہ غلط ہے۔جب بشپ صاحب اٹھے اور انہوں نے یہ کہہ کر کہ عصمت کے متعلق جو آیت شریف اس … نے پیش کی ہے اس کا ترجمہ صحیح نہیں۔وہ آیت پڑھی تو آیت کوئی اور ہی تھی۔میں نے اٹھ کر کہہ دیا کہ یہ وہ آیت نہیں۔تب بشپ صاحب حیران ہوئے اور سب لوگوں نے قہقہہ لگایااور بشپ صاحب اپنی کرسی کے پیچھے دیسی پادری کی طرف اشارہ کیا کہ مجھے اس بھائی نے یہ آیت نکال کر دی تھی مگر خیر ہم ہارجیت کے واسطے نہیں آئے اور ہم نے اس آیت پر غور نہیں کیا۔اچھا ہم محمد( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے متعلق مان لیتے ہیں مگر باقی نبی تو گنہگار ثابت ہوئے۔اس کے بعد ایک دو اور آدمیوں نے چند کلمات کہے۔تب بشپ صاحب نے جلسہ ختم کردیا اور ہماری فتح ہوئی۔آنحضرتؐ کے متعلق آخر بشپ صاحب کو مجبور ہوکر یہ ماننا پڑا کہ قرآن شریف سے ان کا گنہگار ہونا ہرگز ثابت نہیں ہوسکتا اور انجیل کے متعلق جو کلمات میںنے کہے تھے ان کا تو وہ ہرگز جواب دے ہی نہ سکے۔اس کے بعد بشپ صاحب کا اور لیکچر ہوا جس کا مضمون زندہ رسول تھا۔اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے ہم کو ایک عظیم الشان فتح عطاء فرمائی اور ہم نے ثابت کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوچکے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اب تک زندہ موجود ہیں مگر چونکہ اس جگہ اس ذکر کا موقع نہیں اس واسطے اسی پر یہ درس ختم کیا جاتا ہے۔باب۱۷ یہ بات صرف اسلام ہی میں ہے اور اہل اسلام نے ہی اس کا نمونہ دکھایا ہے کہ عین جنگ کے وقت بھی کسی نے توبہ کی اور نماز و زکوٰۃ کا پابند ہوا تو اس پر اعتبار کرکے فوراً اسے اپنے ساتھ ملا لیا۔اِلَّا بِحَقِّ الْاِسْلَامِ۔اگر کوئی مسلمان ہوکر قتل کرے ، ڈاکہ مارے، زنا کرے تو وہ شریعت کی سزا پائے گا۔