ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 460 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 460

(صلی اللہ علیہ و آلہ و بارک وسلم)۔اور یہ لفظ معصومیت کا عیسیٰ کے متعلق کہیں قرآن شریف میں بیان نہیں کیا گیا۔پس ہر طرح سے ثابت ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم معصوم نبی تھے یسوع کی معصومیت کا ثبوت آپ لوگوں کی گردن پر ہے۔اگر چہ بشپ صاحب نے فرمایا تھا کہ آج رات میںجو کچھ تقریر کروں گا۔وہ سب قرآن شریف کی سند پر ہوگی تا ہم چونکہ آپ نے انجیل کا بھی ذکر فرمایا اس واسطے میں بھی اتنا کہہ دینا مناسب سمجھتا ہوں کہ انجیل میں بھی یسوع کے متعلق دوسرے لوگوں کا قول نہیں لینا چاہیے کہ متی یا مرقس نے اس کے متعلق کیا کہا بلکہ مناسب ہوگا کہ انجیل سے یسوع مسیح کی معصومیت ثابت کرنے کے واسطے خود یسوع مسیح کا اپنا قول لینا چاہیے اور وہ اس طرح سے ہے کہ ایک شخص نے یسوع کو کہا کہ اے نیک استاد۔تو یسوع مسیح نے نیک ہونے سے بھی انکار کیا اور صاف کہا تُو مجھے نیک کیوں کہتا ہے؟ نیک تو خدا کے سوائے اور کوئی نہیں ہے۔ایسا ہی ایک جگہ انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ یسوع کا سلوک اپنے بھائیوں کے ساتھ اور اپنی ماں کے ساتھ برا تھا۔اور اگر انجیل ہی کو دیکھا جاوے تو یسوع معصوم چھوڑ اس قابل نہیں کہ اس کو ایک نبی مانا جائے۔یہ تو قرآن شریف کا احسان ہے کہ اس کو کوئی نبی مان سکتا ہے۔فقط یہاں پر میری تقریر ختم ہوگئی اور مسلمان جو بشپ صاحب کی تقریر بہت آزردہ خاطر تھے۔ایسا معقول جواب سن کر نہایت ہی خوش ہوئے اور خوشی کے نعرے مارے اور چیرز پر چیرز دئیے۔اور جب میں بیٹھا تو بشپ صاحب اٹھے مگر انہوں نے میرے جواب کے دوسرے حصے کے متعلق مطلق خاموشی اختیار کی اور پہلے حصے کے متعلق اتنا کہا کہ عربی عجب زبان ہے کہ گناہ کے واسطے اس قدر الفاظ ہیں۔تب میں اٹھا اور کہا کہ بشپ صاحب نے میری بات کا جواب نہیں دیا اور عصمت کے متعلق دوبارہ اس آیت کو پیش کیا اور بشپ صاحب سے جواب طلب کیا۔اتنے میں ایک دیسی پادری نے بشپ صاحب کو قرآن شریف میں سے وہ آیت نکال کر