ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 459 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 459

یہ تو ذَنْب کا لفظ ہے جس کے مفہوم اور معنی میں بشپ صاحب نے دھوکا کھایا۔اب میں دوسرا لفظ غَفَر کا لیتا ہوں۔غَفَر کے معنے ہیں ڈھانکنا، روکنا، بچانا۔جیسے کہ مِغْفَرٌ سپاہی کے سر کے خود کو کہتے ہیں کیونکہ مِغْفَر سپاہی کے سر کو تلوار کی زد سے بچاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کا آنحضرتؐ کو یہ کہنا کہ تیرے ذَنْب کو میں نے غَفَر کیا۔اس کا یہ مطلب ہے کہ تو تمام نبیوں اور مرسلوں کا سردار اور تمام دنیا کے واسطے میرا رسول اور زمین پر میرا خلیفہ ہے تیرے واسطے لفظ جَنَاح اور جُرم وغیرہ کا تو ذکر ہی کیا۔بہ سبب بشر ہونے کے ممکن ہے کہ تیرے نزدیک ذَنْب آوے اور اس کا اثر تجھ پر پڑے لیکن میں نے ذَنْب کے درمیان اور تیرے درمیان غَفَر کردیا یعنی ذَنْب بھی نہ تیرے نزدیک آیا اور نہ آئے گا۔پس اسی آیت سے جو بشپ صاحب نے پیش کی تھی یہ ثابت ہوگیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معصوم تھے۔اور چونکہ اس قسم کی کوئی آیت حضرت عیسیٰ کے متعلق نہیں آئی اس واسطے ان کی معصومیت کا مسئلہ زیر بحث ہوجائے گا۔یہ تو بشپ صاحب کے دلائل کا جواب ہوا لیکن جو پہلو بشپ صاحب نے دلائل کا آج اس جلسہ میں اختیار کیا ہے وہ ناک کو الٹا ہاتھ لگانے کا پہلو ہے۔آپ نے دعویٰ تو یہ کیا تھا کہ معصوم نبی کون ہے؟ پس سیدھا طریق گفتگو کا یوں تھا کہ بشپ صاحب قرآن شریف میں سے لفظ معصوم کا نکالتے اور پھر دکھاتے کہ یہ لفظ حضرت عیسیٰ کے متعلق آیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق نہیں آیا لیکن چونکہ یہ طریق بشپ صاحب نے نہیں اختیا رکیا اس واسطے میں چاہتا ہوں کہ اس آسان راہ سے بھی دکھائوں کہ معصوم کون ہے۔پس اگر سارے قرآن شریف کو اوّل سے آخر تک دیکھا جاوے تو لفظ عصمت کا صرف ایک جگہ ایک ہی نبی کے حق میں بولا گیا ہے۔جہاںخدا اپنے ایک پیارے کو خطاب کرکے کہتا ہے۔ (المائدۃ :۶۸) اور خدا تجھے تمام جہان کے لوگوں میں سے معصوم قرار دیتا ہوں۔یہ خطاب کس کو ہوا؟ اس پیارے نبیؐ کو جو ہمارا سردار بلکہ تمام جہان کا سردار اور سب کا ہادی ہے۔اس کا پیارا نام محمدؐ ہے۔