ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 458
ہوں جسے بشپ صاحب نے دلائل کے واسطے پیش کیا ہے۔سو واضح ہو کہ قرآن شریف کی آیات کو پیش کرنے کے وقت بشپ صاحب کو ایک غلطی لگی ہے جس کی وجہ ہے یہ بشپ صاحب زبان عربی سے نا آشنا ہیں۔(گو بشپ صاحب کا یہ دعویٰ تھا کہ میں عربی جانتا ہوں لیکن ان کی عربی دانی ایسی ہی تھی جیسے کہ عموماً انگریزوں کی ہوا کرتی ہے۔یہاں تک کہ بشپ صاحب مجلس میں قرآن شریف کی سادہ عبارت بھی پڑھنے کی جرأت نہ کرسکے تھے صرف ترجمہ ہی پڑھ دیا تھا۔اس واسطے میں نے مناسب سمجھا کہ بشپ صاحب کی عربی دانی کا جو رعب حاضرین پر ہو اس کو بھی دور کردیا جائے)۔قرآن شریف کی ان آیات میں دو الفاظ قابل غور ہیں۔ذَنْب اور غَفَر۔ان لفظوں کے اگر صحیح معنے کردئیے جاویں تو سب معاملہ طے ہو جاتا ہے۔سب سے پہلی غلطی جو بشپ صاحب نے کی وہ لفظ ذَنْب کے ترجمہ کرنے میں ہے۔عربی ایک وسیع زبان ہے اور جیسا کہ انگریزی میں (Synonyms) ہوتے ہیں یعنی مترادف الفاظ جو بظاہر ہم معنی ہوتے ہیں لیکن دراصل ان کے معانی میں بہت فرق ہوتا ہے ایسا ہی عربی میں بھی الفاظ ہوتے ہیں۔عربی میں اس مفہوم کے واسطے بہت سے الفاظ ہیں۔مثلاً جُرم۔جَنَاحٌ۔اِثْمٌ۔خَطَأٌ۔ذَنْبٌ وغیرہ وغیرہ۔چونکہ اردو ایک محدود زبان ہے اس واسطے اس زبان میں ہر مفہوم کے واسطے جدا جدا الفاظ نہیں ہیں۔گناہ کا ٹھیک ترجمہ عربی زبان میں جَنَاح ہے اور غالباً یہی جَنَاح کا لفظ بگڑ کر رفتہ رفتہ فارسی زبان میں گناہ بن گیا ہے۔ایسا ہی جُرم کا لفظ ہے جس کے معنے خدا سے قطع تعلق کرنے کے ہیں۔یہ الفاظ جُرم اور جَنَاحکے کبھی قرآن شریف میں یا حدیث میں ہمارے نبی کیا کسی نبی کے متعلق بھی نہیں آئے۔کبھی کسی نبی سے جُرم یا جَنَاح (یعنی گناہ) کا ارتکاب نہیں ہوا۔ہاں ذَنْب کا لفظ آیا ہے۔سو ذَنْب کے معنے اس جگہ گناہ کے نہیں ہیں بلکہ ذَنْب صرف ایک کمزوری کو کہتے ہیں جو بشری تقاضا ہے کہ بشر کمزور ہوتا ہے وہ آخر انسان ہے۔ممکن ہے کہ ایسے امور جو انسانی کمزوری کا نتیجہ ہوںکبھی نبی سے بھی صادر ہوں لیکن یہ باتیں الٰہی نارضامندی کا موجب نہیں ہیں اور اس واسطے گناہ کے ذیل میں ان کو شامل نہیں رکھا جاسکتا۔