ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 452 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 452

دل پر ہو۔کھٹکا یہ ہے کہ اس امر سے ڈرے کہ میری بات پر کوئی آگاہ نہ ہوجائے۔واقعہ ہمارے شہر میں ایک بیوہ تھی۔میں نے اس سے نکاح کرنا چاہا مگر اس کے ولی اس امر پر راضی نہ ہوتے تھے کہ وہ کہیں نکاح کرے۔ان کے ہاں دستور تھا کہ بیوائیں ساری عمر اسی طرح بیٹھی رہتی ہیں۔میں نے بعض مولوی صاحبان کو خط لکھے اور ان سے فتویٰ طلب کیا کہ اس صور ت میں کیا کرنا چاہیے۔وہاں سے جواب آیا کہ ایسے ولی کی ہرگز پرواہ نہیں کرنی چاہیے اور نکاح ضرور کرلینا چاہیے۔اس خط کو پاکر میں خوشی سے اس عورت کے مکان کی طرف چلا۔اپنے ہی اس دروازہ پر جس سے نکلنا تھا نکلنے کو تھا مجھے ایک شخص ملا۔اس کے پاس حدیث کی کتاب ترمذی تھی۔یہی حدیث اس نے نکال کر مجھے دکھائی اور اس کا مطلب دریافت کیا۔میں جان گیا کہ اسے اللہ تعالیٰ نے میرے سمجھانے کے لئے بھیجا ہے۔میں اسی دروازہ میں بیٹھ گیا اور آگے نہ بڑھا۔سائل بھی حیران ہوا۔پھر میں وہاں سے اندر چلاآیا۔تب میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خواب میں دیکھا کہ آپ لیٹے ہوئے ہیں اور آپ کی داڑھی منڈی ہوئی ہے۔جس پر میں نے تعجب کیا اور حدیث کا خیال بھی میرے دل میں تھا۔پھر میں نے دیکھا کہ حدیث لَا نِکَاحَ اِلَّا بِوَلِیٍّ(سنن ابن ماجہ کتاب النکاح باب لا نکاح ال بولی)ہے تو صحیح مگر لوگ اسے ضعیف کہتے ہیں۔تب میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پھر دیکھا۔آپ بیٹھے ہیں اور ریش مبارک کو ایک طرف سے بڑھا ہوا اور دوسری طرف سے کٹا ہوا دیکھا۔پھر میرے خیال نے ترقی کی کہ یہ حدیث بالکل صحیح ہے اور میں اسی کے مطابق انشاء اللہ تعالیٰ عمل کروں گا۔تب میں کیا دیکھتا ہوں کہ آپ کی ریش مبارک دونوں طرف عمدہ اور برابر ہے۔اس طرح میرے مولیٰ نے مجھے سمجھایا کہ مولویوں کے فتوے کی کیا بات ہے۔گناہ تو وہ ہے جو دل میں کھٹکے۔فرمایا حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اَ لْاِثْمُ مَا حَاکَ فِیْ صَدْرِکَ وَلَوْ اَفْتَاکَ الْمَفْتُوْنَ۔اَلْحَیَآئُ شُعْبَۃٌ مِّنَ الْاِیْمَانِ۔حیاء ایمان کی ایک شاخ ہے۔