ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 451 of 569

ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 451

مِنْھَاجًا۔سبیل۔وہ راہ جو تجربہ اور جبلت سے اختیار کرنی پڑتی ہے۔اس جگہ عمر بن عبدالعزیز خلیفہ کا ایک قول نقل کیا گیا ہے کہ اگر میں زندہ رہا تو ایمان کے شرائع اور فرائض اور حدود اور سنن تمہارے سامنے بیان کروں گا اور اگر مر گیا تو تمہارے درمیان رہنے کی مجھے حرص نہیں۔سبحان اللہ ! کیا ہی مومنانہ کلام ہے۔انسان دنیا میں جئے تو قلب کی اس حالت کے ساتھ جئیے کہ یہاں رہنے کی حرص دامنگیر نہ ہو۔خلیفہ عمر بن عبدالعزیز وہ ایک شخص ہے جس کو سنی ، شیعہ، خارجی سب پسند کرتے ہیں۔پولوس نے تو شریعت کو ناقابل عمل اور لعنت کہا ہے مگر انسان کی حالت ایسی ہے کہ گرجے کی قوانین کی کتاب توریت سے بڑی ہے۔ایمان ایک درخت کی مثال رکھتا ہے جیسا کہ اللہ جَلَّ شَانُہٗ کے پاک کلام میں آیا ہے۔(ابراہیم :۲۵) پاک کلمہ ایک پاک درخت کی طرح ہے۔جب درخت پیدا ہوتا ہے تو پہلے اس کی لو نکلتی ہے۔اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کس قسم کا درخت ہے اور ا س کا کیا نام ہے۔مثلاً پیپل کا درخت پہلے دن جب اس کی لو دکھائی دے گی تب بھی اس کا نام پیپل ہوگا۔چار سال بعد بھی وہ پیپل ہی کہلائے گا۔جب بہت بڑھ جائے گا اور سینکڑوں آدمی اس کے سایہ کے نیچے آرام پائیں گے تب بھی وہ پیپل ہی کہلائے گا اور جب وہ پرانا ہوکر اس کے پتے جھڑ جاتے ہیں اور شاخیں گر جاتی ہیں اور ایک ٹنڈ سا رہ جاتا ہے تب بھی اس کا نام پیپل ہوتا ہے۔یہی حال ایمان کا ہے جو بڑھتا اور گھٹتا ہے لیکن اگر کوئی شخص پیپل کے ایک پتے کو ہاتھ میں لے کر کہے کہ یہ درخت پیپل کا ہے تو اس کی غلطی ہوگی۔جس کے گھر میں ایمان کا درخت لگ گیا وہاں سے اس کے پھول ، پھل اور پتے بھی نظر آئیں گے۔یہی حال کفر کا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔(ابراہیم :۲۷) مَاحَاکَ فِی الصَّدْرِ۔جو بات دل میں کھٹکتی ہو اسے چھوڑ دینا چاہیے۔جس بدی کا اثر